خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 614 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 614

614 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو اسی آیت سے شروع کیا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن اور جابجا اس نے قرآن شریف میں صاف صاف بتلا دیا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی خاص قوم یا خاص ملک میں خدا کے نبی آتے رہتے ہیں بلکہ خدا نے کسی قوم اور کسی ملک کو فراموش نہیں کیا۔اور قرآن شریف میں طرح طرح کی مثالوں میں بتلایا گیا ہے کہ جیسا کہ خدا ہر ایک ملک کے باشندوں کے لئے ان کے مناسب حال ان کی جسمانی تربیت کرتا آیا ہے ایسا ہی اس نے ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم کو روحانی تربیت سے بھی فیضیاب کیا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے وَاِنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (فاطر : 25) کہ کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نبی یا رسول نہیں بھیجا گیا۔سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا ربّ ہے اور تمام زمانوں کا رب ہیاور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی ربّ ہے اور تمام فیوض کا وہی سرچشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اُسی سے ہے اور اُسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہورہا ہے۔یہ اس لئے ہوا کہ تاکسی قوم کو شکایت کرنے کا موقع نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا۔یا فلاں قوم کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی۔یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہا۔پس اس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کو دفع کر دیا۔اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا۔پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 441-442) پرانے زمانے میں انبیاء اپنی اپنی قوموں کے لئے آتے رہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جب آپ کو تمام دنیا کے لئے رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجا تو تمام دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کر دیا اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے، تمام نبیوں کے جامع تھے اب میں خاتم الخلفاء ہوں اور اس زمانے میں تمام دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں۔اب ہمارا کام ہے کہ یہ پیغام ہر شخص تک پہنچائیں تا کہ کسی کو یہ احساس نہ رہے یا اس علم سے محروم نہ رہے کہ اس زمانے میں ہماری اصلاح کے لئے کوئی نبی نہیں آیا۔ہم خوش قسمت kh5-030425