خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 615
خطبات مسرور جلد چهارم 615 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء ہیں جنہوں نے اس زمانے کے امام کو جو نبی اللہ ہے مان کر اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا فہم و ادراک حاصل کیا۔پس اس میں بڑھنا اور مزید فیض اٹھانے کی کوشش کرنا ہر احمدی کا کام ہے۔صفت ربوبیت کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے اللہ تعالیٰ کا جو سلوک تھا اب میں اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ابتدا سے ہی دنیا داری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لئے کوئی دنیا داری کا کام نہیں کرتے تھے بلکہ قرآن میں ہر وقت غور کرنا اور اس میں غرق رہنا اور اللہ تعالیٰ کی طرف کو لگائے رکھنا آپ کا کام تھا اس لئے دنیاوی ضروریات کے لئے اپنے والد صاحب پر آپ کا بڑا انحصار تھا۔جب آپ کے والد صاحب کی وفات کا وقت قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دی تو جو ایک ظاہری انسانی بشری تقاضا ہوتا ہے اس کے تحت آپ کو فکر ہوئی جس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : ” جب مجھے حضرت والد صاحب مرحوم کی وفات کی نسبت اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے اس الہام کو میں نے یہاں نہیں بتایا ، بہر حال ایک الہام ہوا تھا کہ وفات کا وقت قریب ہے تو بشریت کی وجہ سے مجھے خیال آیا کہ بعض وجوہ آمدن حضرت والد صاحب کی زندگی سے وابستہ ہیں پھر نہ معلوم کیا کیا ابتلا ہمیں پیش آئے گا۔تب اسی وقت یہ دوسرا الہام ہوا الَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عبدہ، یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے اور اس الہام نے عجیب سکینت اور اطمینان بخشا اور فولادی میخ کی طرح میرے دل میں یہ ھنس گیا۔پس مجھے اس خدائے عزوجل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔میر اوہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفل نہیں ہوگا“۔(کتاب البریہ ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 194-195 حاشیہ) ایک الہامی دعا کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : پہلے اس سے چند مرتبہ الہامی طور پر خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کی زبان پر یہ دعا جاری کی تھی کہ رَبِّ اجْعَلْنِي مُبَارَكًا حَيْثُمَا كُنتُ یعنی اے میرے رب مجھے ایسا مبارک کر کہ ہر جگہ میں بودو باش کروں برکت میرے ساتھ رہے۔پھر خدا نے اپنے لطف و احسان سے وہی دعا کہ جو آپ ہی فرمائی تھی قبول فرمائی۔پہلے دعا سکھائی پھر قبول فرمائی۔اور یہ عجیب بندہ نوازی ہے کہ اول آپ ہی الہامی طور پر زبان پر سوال جاری کرنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ تیرا سوال منظور کیا گیا ہے“۔براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 621 - حاشیہ در حاشیہ نمبر (3) kh5-030425