خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 54
خطبات مسرور جلد چهارم 54 خطبہ جمعہ 27 / جنوری 2006 ء پھر ایک اور سکالر، شرعی عدالت کے مشیر خصوصی حافظ صلاح الدین یوسف کہتے ہیں کہ زلزلہ تازیانہ عبرت تھا ہمیں اس سے اپنی اصلاح کر لینی چاہئے۔جب کفر و طغیان بڑھ جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ضرور آتی ہے۔باقی یہ کہنا کہ معصوم لوگ کیوں ہلاک ہوئے تو حدیث میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئے گی تو سبھی پکڑے جائیں گے، سبھی تباہ ہوں گے۔صحابہ کرام نے پوچھا نیک لوگ بھی تباہ ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا ہاں نیک لوگ بھی۔ان کے ہوتے ہوئے بھی عذاب آ سکتا ہے۔البتہ قیامت کے دن ان کی نیتوں اور اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔اللہ تعالیٰ مالک ہے وہ کبھی دے کر آزماتا ہے کبھی واپس لے کر آزماتا ہے، زندہ کرنا اور مارنا اس کی قدرت میں ایک نظام ہے اس تباہ کن زلزلے نے بھی جسے چاہا ہلاک کردیا اور جس کو چاہا بچا دیا۔میں اس کی خوشنودی کی خواہش رکھنی چاہئے اور اس کے احکامات کی تعمیل میں لگے رہنا چاہئے۔اس زلزلے کو حضرت عیسی کی آمد کی نشانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔بہر حال اتنا ہی کافی ہے کہ ہر طبقے کی بد اعمالیوں کو تسلیم کر لیا اور خود بھی ان میں شامل ہیں۔حکومت میں شامل جو ہوئے۔باقی یہ نشانی ہے یا نہیں یہ تو میں آگے جا کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالوں سے بتاؤں گا۔پھر آگے لکھتے ہیں ہمیں اس ناگہانی آفت میں اپنے مالک کی طرف لوٹنا چاہئے اور متاثرین کی امداد میں بھی سرگرم ہونا چاہئے۔اور سرگرم اگر ہے تو وہ آج بھی جماعت احمد یہ ہے ان میں سے تو اکثریت چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔پھر ان کے ایک سکالر حافظ محمد ادریس صاحب ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مال غنیمت کو ذاتی سرمایہ بنالیا جائے ، امانتوں کو مال غنیمت جان کر ہضم کر لیا جائے ، گانے بجانے والیوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے ، شراب اور جو عام ہو جائے ، امانتیں نا اہل لوگوں کے سپر د کر دی جائیں، مسجدوں سے آواز میں اونچی ہونے لگیں، (یعنی ان کی مسجدوں سے ہی آواز میں اونچی ہوتی ہیں جو لڑائی جھگڑے، فساد قتل و غارت کرتے ہیں)۔تو لوگوں کو زلزلوں کا انتظار کرنا چاہئے۔کہتے ہیں کہ یہ زلزلہ بھی ہماری کوتاہیوں اور نا فرمانیوں کی وجہ سے آیا ہے ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔اور پھر وہی کہ حضرت عیسی سے کوئی تعلق نہیں۔کہتے ہیں کہ زلزلہ قدرت کی طرف سے ایک وارننگ ہے تا کہ ہم اپنے رویے تبدیل کر لیں اور اپنے مالک کی طرف رجوع کرلیں۔تو اگر حقیقت میں خالص ہو کر مالک کی طرف رجوع کریں گے اور رویے تبدیل کریں گے ، ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھکیں گے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خود بتا دے گا اور جس کا اعلان بھی ہو چکا ہے کہ "یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا۔kh5-030425