خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 463 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 463

خطبات مسرور جلد چهارم 463 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 بے شمار جگہوں پر چرچوں پر For Sale کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔امریکہ کے ایک پروفیسر ایڈون لوئیس (Edwin Lewis) نے لکھا کہ بیسویں صدی کے لوگ مسیج کو خدا ماننے کے لئے تیار نہیں۔پھر سینٹ جونز کالج آکسفورڈ کے پریذیڈنٹ سر سائرل لکھتے ہیں کہ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ یورپ اور امریکہ کے مردوں اور عورتوں کا ایک بڑا حصہ اب عیسائی نہیں رہا۔اور شاید یہ کہنا بھی صحیح ہوگا کہ ان کی اکثریت اب ایسی ہے۔اسی طرح افریقہ کے بارہ میں ان لوگوں کے مختلف بیانات ہیں، خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ تعلیم اب ختم ہو رہی ہے تو ان کو پتہ ہے اس لئے ایک ہی حل رہ گیا کہ اسلام کے خلاف غلط قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں۔جبر کے بارہ میں اسلام کا جو نظریہ غیر مسلم پیش کرتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟ کہتے ہیں کہ قیصر کو قرآن کے احکامات کا علم تھا۔تو دیکھ لیں قرآن کیا کہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ﴾ (الكيف : 30) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کروا دیا کہ تم دنیا کو بتا دو کہ اسلام حق ہے اور تمہارے رب کی طرف سے ہے۔پس جو چاہے اس پر ایمان لائے اور جو چاہے انکار کر دے کیونکہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ﴾ (البقره: 257 ) کا حکم ہے۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ كُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمُ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ (یونس: 109 ) یعنی اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آیا ہے پس جو شخص ہدایت کو قبول کرے گا اس کا فائدہ اسی کے نفس کو ہو گا اور جو غلط راستے پر چلے گا اس کا و بال بھی اس کی جان پر ہے۔میں کوئی تمہاری ہدایت کا ذمہ دار نہیں ہوں۔اس کا عملی نمونہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔چنانچہ جب بنو نضیر کو اپنی بعض زیادتیوں اور حرکتوں کی سے جلا وطنی کی سزاملی تو انصار نے اپنی اولاد کو جو انصار نے پیدائش کے وقت بنو نضیر کو دے دی تھی ، ان سے واپس لینا چاہا تو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں جو تم دے چکے وہ دے چکے اب دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ، یہ اب ان کے پاس ہی رہیں گے۔(ابوداؤد كتاب الجهاد باب في الاسيريكره على الاسلام حدیث نمبر (2682 یہ آپ کی تعلیم ہی تھی جس کی وجہ سے آپ کے خلفاء اور صحابہ اس بات کو سمجھتے ہوئے اس کی پابندی کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عمرؓ کے ایک غلام خود بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مجھے کئی دفعہ کہا کہ مسلمان ہو جاؤ لیکن میرے انکار پر آپ یہ کہتے کہ ٹھیک ہے، اسلام میں جبر نہیں ہے۔اور جب آپ کی