خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 462 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 462

462 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم ہیں بلکہ ہر قوم میں جتنے بھی انبیاء آئے سب کو مانتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں۔عیسائیوں کو بھی مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور احترام کرنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ قیصر کا حوالہ دے کر پوپ صاحب یہ کہتے ہیں کہ سورۃ بقرہ کی آیت 256 کا قیصر کو یقینا علم تھا۔اور یہ آیت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ﴾ (البقرة : 257) ہے۔یعنی دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔کہتے ہیں یہ سورۃ ابتدائی سورتوں میں سے تھی۔اتنی ابتدائی بھی نہیں ، یہ مدینہ کے ابتدائی ایک دو سال کی ہے۔لیکن قیصر کو بعد کی سورتوں کا بھی علم تھا اور جہاد سے متعلق بعد کی تعلیمات سے بھی واقف تھا۔واقف تو پتہ نہیں وہ تھا یا نہیں لیکن تعصب کی نظر ضرور رکھتا تھا۔کہتے ہیں کہ قرآن میں کفار اور اہل کتاب کے بارے میں مختلف سلوک کرنے کی ہدایت ہے جبکہ مذہب میں جبر کا کوئی تصور نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں نعوذ باللہ بُری اور غیر انسانی تعلیمات ہی ملیں گی اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔جیسا کہ آپ نے فرمایا ( بقول اُن کے، نعوذ باللہ ) کہ اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے۔خود ہی ایک بات غلط طور پر منسوب کر کے جس کا اسلام کی تعلیم سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ، خود ہی یہ فیصلہ صادر کر دیا کہ یہ خلاف عقل باتیں ہیں جو خدا کے انصاف سے متصادم ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک ذی عقل کو قوت یا زور اور ہتھیار در کار نہیں ہیں بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ ایک ذی عقل کو ہتھیار اور طاقت کی ضرورت نہیں۔یہ تو انہوں نے بالکل ٹھیک بات کی ہے۔بالکل ضرورت نہیں ہے۔لیکن آجکل کی جو ان کی بڑی بڑی طاقتیں ہیں یہ ہزاروں میل دور بیٹھی ہوئی قوموں کے معاملات میں دخل اندازی کر کے طاقت کا استعمال کیوں کر رہی ہیں؟ اس کا جواب انہوں نے نہیں دیا۔پہلے یہ لوگ اپنے لوگوں کو سمجھائیں کہ کیا صحیح کر رہے ہیں، کیا غلط کر رہے ہیں۔پھر عیسائیت کی تاریخ میں جو آپس کی جنگیں ہیں وہ نظر نہیں آتیں؟ وہ کس کھاتے میں ڈالتے ہیں؟ پھر سپین میں جو کچھ ہوا وہ کس کھاتے میں ہے؟ جو انکیوئز یشن (Inquisition) ہوئی اس کی تفصیل تو میں یہاں بیان نہیں کرتا ، ان سب کو علم ہے۔اب جو یہ فرماتے ہیں کہ وہ بعد کی تعلیمات سے بھی واقف تھا۔مذہب پھیلانے کے بارے میں اسلام کی تعلیم کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کیا تھا، اس واقف کا رکو تو اس کا پتہ نہیں تھا لیکن وہ عمل کیا تھا، وہ ہمیں پیش کرتا ہوں۔اسلام دین فطرت ہے۔اس نے یہ تعلیم تو یقینا نہیں دی کہ اگر تمہارے ایک گال پر کوئی تھپڑ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو۔جن کو تعلیم دی گئی ہے وہ بتائیں کہ کس حد تک اس پر عمل کر رہے ہیں۔ان کی تعلیم کے یہی سقم ہیں جنہوں نے اس زمانے میں عیسائیوں کو عیسائیت سے دور کر دیا ہے۔اتوار کے اتوار جو ایک ہفتے کے بعد چرچ میں جانا ہوتا ہے اس میں بھی اب کوئی نہیں جاتا سوائے بوڑھوں اور بوڑھیوں کے۔چرچوں کو انہوں نے دوسرے فنکشنز کے لئے کرائے پر دینا شروع کر دیا ہے۔مغربی دنیا میں