خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 452
خطبات مسرور جلد چهارم 452 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 تو مجھے بتانا کہ کیسا ہوا ہے۔میں انشاء اللہ دعا کروں گا تم بغیر کسی فکر کے دل جمعی کے ساتھ امتحان دیتے جاؤ۔جب میں انگلش کا پرچہ دے کر آیا۔تو نہایت مایوسی کے لہجے میں حضرت مولوی صاحب سے ذکر کیا کہ صرف دو چار نمبر کا پرچہ کر سکا ہوں۔آپ اس وقت اپنے گھر کے چبوترے پر تشریف فرما تھے۔میری کارگزاری سن کر مسکرائے اور فرمایا میں نے تمہارے لئے خاص دعا کی ہے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ مجید کو کہو کہ پر چوں پر رول نمبر تو لکھ آئے باقی ذمہ داری ہم لے لیں گے۔نیز یہ بھی فرمایا کہ جب تک نتیجہ نہ نکلے اس بات کا کسی سے ذکر نہ کریں۔کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ میرے تمام پرچے نہایت خراب ہوئے تھے جن میں سے کسی ایک میں بھی کامیابی کی امید نہ تھی۔لیکن میری حیرانی کی حد نہ رہی جب میٹرک کا نتیجہ نکلا تو میں 444 نمبر لے کر سیکنڈ ڈویژن میں کامیاب ہو گیا۔(سیرت حضرت مولانا شیر علی صاحب صفحہ 253-254) حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ہی فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کو مجھ پر ابتداء میں حسن ظن تھا۔بلکہ قبولیت دعا کے واقعات دیکھ کر ان کی اہلیہ صاحبہ جو شیعہ مذہب رکھتی تھیں ان کو بھی حسن ظن ہو گیا تھا اور اکثر دعا کے لئے کہتی تھیں۔ایک دفعہ ان کا چھوٹا لڑکا بشر حسین بعمر چھ سات سال سخت بیمار ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب خود بھی توجہ سے اس کا علاج کرتے تھے اور دوسرے ماہر طبیبوں سے بھی اس کے علاج کا مشورہ کرتے تھے۔لیکن بچے کی بیماری دن بدن بڑھتی چلی گئی۔یہاں تک کہ ایک دن اس کی حالت اس قدر نازک ہو گئی کہ ڈاکٹر صاحب اس کی صحت سے بالکل مایوس ہو گئے۔اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کا وقت نزع آ چکا ہے گورکنوں کو قبر کھود نے کے لئے کہنے کے واسطے اور دوسرے انتظامات کے لئے باہر چلے گئے۔اس نازک حالت میں ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ نے بڑے عجز وانکسار سے اور چشم اشکبار سے (روتے ہوئے) مجھے بچہ کے لئے دعا کے واسطے کہا۔میں ان کے الحاح اور عاجزی سے بہت متاثر ہوا۔اور میں نے یہ پوچھا کہ رونے کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعض رشتہ دار عورتیں اندر بشیر کی مایوس کن حالت کے پیش نظر ا ظہار غم والم کر رہی ہیں۔میں نے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں لیکن اس شرط پر کہ آپ سب بشیر کی چارپائی کے پاس سے دوسرے کمرے میں چلی جائیں اور بجائے رونے کے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا میں لگ جائیں اور بشیر حسین کی چار پائی کے پاس جائے نماز بچھا دی جائے تا میں دعا میں اور نماز میں مشغول ہو جاؤں تو بشیر حسین کی والدہ نے اس کی تعمیل کی۔کہتے ہیں کہ من مجھے اس وقت سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا بیان فرمودہ قبولیت دعا کا گر یاد آ گیا اور کمرے سے باہر نکل کر کیلیا نوالی سڑک کے کنارے جا کھڑا ہوا۔اور ضعیف اور بوڑھی غریب عورت کو جو وہاں سے گزررہی