خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 451 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 451

خطبات مسرور جلد چہارم 451 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 کہ پھر بتاؤں گا۔ایک مشکل میں پڑ گیا ہوں تم بھی دعا کرو۔چنانچہ چند گھنٹے کے بعد آپ نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا۔ڈاکیا ایک منی آرڈ رلایا ہوا تھا۔فرمایا کہ عزیز بشیر احمد کا مونگ رسول سے خط آیا ہے ( سردار بشیر احمد ان کے بیٹے تھے جو مونگ میں پڑھتے تھے ) کہ آپ نے خرچ نہیں بھیجا مجھے تکلیف ہے۔اور ماسٹر صاحب کہتے ہیں کہ مجھے کہیں سے روپیہ کی امید نہیں تھی۔میں نے دعا کی تھی کہ اے اللہ تو رازق ہے بچہ پردیس میں ہے۔میرے پاس رقم نہیں، تیرے پاس بے انتہا خزانے ہیں تو کوئی سامان کر دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ سامان کر دیا۔تھوڑی دیر بعد ان کے پیسوں کا انتظام ہو گیا۔( اصحاب احمد۔جلد 7 صفحہ 75 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) قبولیت دعا کے ضمن میں حضرت مولانا شیر علی صاحب کی دعا سے امتحان میں کامیابی کا بھی ایک عجیب ذکر ملتا ہے۔حافظ عبدالرحمن صاحب بٹالوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کا معمول تھا کہ یونیورسٹی کے امتحانات جب شروع ہوتے تو حضرت مولوی صاحب بلا ناغہ روزانہ تشریف لاتے اور لڑکوں کی معیت میں نہایت الحاج سے دعا فرماتے۔پھر تمام لڑکے ہال میں داخل ہو جاتے۔ایک دفعہ مولوی صاحب دعا کر کے آ رہے تھے کہ ہائی سکول کی بورڈنگ کے قریب ملے۔میں نے عرض کیا کہ حضور میری بچی نے ایف اے میں فلاسفی کا امتحان دینا ہے اس کے لئے دعا کریں۔تو شفقت کا پیکر بغیر کوئی جواب دیئے میرے ساتھ ہو لیا اور دوبارہ ہائی سکول کے برآمدے میں پہنچ کر میری بچی کے لئے لمبی دعا کروائی۔اور آپ پر خاص رقت کی کیفیت تھی دعا کے بعد فر مایا آپ کی بچی کامیاب ہوگئی ہے۔چنانچہ وہ فلاسفی میں ضلع گورداسپور بھر میں فرسٹ آئی۔سیرت حضرت مولانا شیر علی صاحب صفحہ 234) یہ عجیب واقعہ ہے جو عبدالمجید صاحب سیال بی اے ایل ایل بی بیان کرتے ہیں کہ 1943ء کا ذکر ہے کہ مجھے میٹرک کے امتحان میں شریک ہونا تھا لیکن پانچ چھ ماہ کا طویل عرصہ بے مصرف گزر جانے کے باعث میری ہمت جواب دے رہی تھی۔میں عجیب قسم کی ذہنی پریشانی میں مبتلا تھا۔ان دنوں میری رہائش بیت الظفر ( کوٹھی چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ) میں تھی اور حضرت مولوی صاحب گیسٹ ہاؤس میں ترجمۃ القرآن کا کام کرتے تھے (مولوی صاحب نے قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے )۔حضرت مولوی صاحب کے ساتھ قرابت مہربانی اور تلطف کے تعلق خاص کی وجہ سے ان کو میرے حالات کا خوب علم تھا۔آپ چاہتے تھے کہ میں میٹرک کے امتحان میں ضرور شریک ہوں۔چنانچہ آپ کے ہمت دلانے پر میں نے لیٹ فیس کے ساتھ داخلہ بھیج دیا۔آپ نے مجھے تاکید فرمائی کہ جب پہلا پرچہ ہو جائے