خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 18
خطبات مسرور جلد چهارم 18 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء نے بیعت کے بعد اپنے اندر وہ تبدیلیاں پیدا کیں جن کے نمونے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں نظر آتے ہیں۔جب صحابہ نے اُس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کی وجہ سے تمام برائیوں اور گھٹیا اخلاق سے تو بہ کی۔فسق و فجور، زنا، چوری، جھوٹ ، قمار بازی، شراب نوشی قبل و غارت وغیرہ کی عادتیں اُن میں سے اس طرح غائب ہوئیں، جس طرح کبھی تھیں ہی نہیں۔اور نہ صرف یہ کہ یہ عادتیں ختم ہو گئیں، بلکہ اعلیٰ اخلاق اور نیکیاں بجا لانے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش شروع ہو گئی۔عبادات میں مشغولیت اور قربانی کی ایسی روح پیدا ہوگئی کہ کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو کچھ عرصہ پہلے اس سے بالکل الٹ تھے۔اُن لوگوں کا مطلوب و مقصود صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور ان سے عشق و محبت میں فنا ہونا رہ گیا تھا۔ان کے عشق و محبت کی ایسی مثالیں بھی تھیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو بھی نیچے نہیں گرنے دیتے تھے۔(بخاری کتاب الوضوء باب استعمال فضل وضوء الناس حدیث نمبر 187) پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اور اللہ تعالیٰ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وعدے کے مطابق کہ رہتی دنیا تک اب تیرا نام ہی روشن رہنا ہے، تیرے ذریعے سے ہی بندوں نے مجھ تک پہنچنا ہے، اگر زمین میں ایسا دور بھی آیا کہ ایمان دنیا سے بالکل مفقود ہو گیا تو تب بھی میں تیرے عاشق صادق کے ذریعہ سے اسے دوبارہ دنیا میں قائم کروں گا۔اس مسیح محمدی کے ذریعہ سے ایک انقلاب برپا کروں گا جس پر تیری قوت قدسی کا اثر ہو گا اور وہ اس کے ذریعہ پھر وہ مثالیں قائم کروائے گا جو تُو نے صحابہ میں پیدا کیں۔حضرت امام مہدی کا ظہور ہوا۔اس وقت جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ ان مثالوں کے چند نمونے پیش کروں گا جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس نور سے فیض پا کر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فر مایا تھا، اپنے صحابہ میں ، اپنے ماننے والوں میں، اپنے بیعت کرنے والوں میں کیا انقلاب عظیم پیدا کیا تھا۔اس بارے میں میں سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں ہی بیان کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے صحابہ کو کیسا پایا۔آپ فرماتے ہیں کہ : میں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقویٰ ترقی پذیر ہے۔اور ایام مباہلہ کے بعد گویا ہماری جماعت میں ایک اور عالم پیدا ہو گیا ہے۔میں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں نا پاک دل کے لوگ انکو کافر کہتے ہیں اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں“۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 315) اب میں ان پاک نمونوں کی چند مثالیں دیتا ہوں۔kh5-030425