خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 150
خطبات مسرور جلد چهارم 150 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006 ء کامیابی ہو جائے ورنہ یہ بدامنی اور آگئیں اور خود کش حملے اور ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ہاتھوں قتل، پتہ نہیں پھر کب تک چلتا چلا جائے گا۔پھر بعض طاقتوں کی ایران کے اوپر نظر ہے اور زور یہ دے رہے ہیں کہ جو ایران اپنی ایٹمی توانائی پر امن مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ، جوہری توانائی استعمال کر رہے ہیں وہ بھی استعمال نہیں کرنا۔کیونکہ اس سے پھر آگے نکل کر وہ اس کو دوسرے مقاصد کے لئے بھی استعمال کریں گے۔یہ حکومتیں اپنے لئے ہر حق رکھتی ہیں کہ ہم جو چاہیں کریں لیکن دوسرا نہیں کر سکتا۔تو مسلمان ممالک اگر مل کر یہ جائزہ لے لیں ، ایران کو بھی سمجھا ئیں ، بھائی بھائی بن کے بیٹھیں اور اس بات کی تسلی کرلیں اور دنیا کو پھر اس بات کی ضمانت دے دیں کہ ہم جو مسلمان ممالک ہیں ہر چیز انسانی فلاح و بہبود کے لئے کرنے والے ہیں، غلط کام نہیں کریں گے تو سارے معاملات سلجھ جائیں گے اور سمجھ سکتے ہیں لیکن یہ بھی ہے کہ پھر تم بھی ہمیں یہ ضمانت دو گے کہ آئندہ ہمارے معاملات میں تم کبھی دخل نہیں دو گے۔تعمیری منصوبوں کے لئے اگر ہمیں مدد چاہئے ہوگی تو لے لیں گے، فوجی کارروائیاں ہمارے ملکوں کے خلاف نہیں ہوں گی۔اگر اس طرح ہو تو معاملے سلجھ سکتے ہیں۔لیکن بد قسمتی سے مسلمان ممالک بظاہر یہ کوشش کر نہیں سکتے اور ضمانت دے نہیں سکتے کیونکہ تقویٰ کی کمی کی وجہ سے ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے رہے ہیں اور دے رہے ہیں۔سعودی عرب کی مثال ہے، یہ مثال حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے خطبات میں دی تھی کہ اس کی اسلامی دنیا سے غداریاں تاریخی نوعیت کی ہیں اور ہمیشہ دھوکہ دیتا رہا ہے۔اس بات کو یہ امریکن جس کی کتاب کا میں نے ذکر کیا ہے اس نے بھی لکھا ہے کہ سعودی عرب تو اب اس طرح مغرب اور امریکہ کے شکنجے میں ہے کہ اس سے نکل نہیں سکتا۔اس نے لکھا کہ موجودہ حکومت کو قائم رکھنے کی ضمانت امریکہ نے اس شرط پر دی ہے کہ ہمارے مفادات کی حفاظت کرو گے۔تو اللہ تعالیٰ کا جو یہ حکم ہے کہ تقویٰ اختیار کرو، وہی ان میں ختم ہو گیا ہے تو امن کس طرح قائم کروا سکتے ہیں۔حالانکہ مکہ اور مدینہ کی وجہ سے اس خاندان کا اور سعودی عرب کا مسلمانوں پر بڑا اثر ہو سکتا ہے، اگر تقویٰ سے کام لیں۔اور امریکہ کا خوف رکھنے یا مغرب کا خوف رکھنے کی بجائے خدا کا خوف رکھنا ثابت کر دیں۔تو تمام مسلمان ممالک جن کو ان سے شکوے بھی ہیں وہ بھی ان کی بات ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔لیکن یہ اتنے بدنام ہو چکے ہیں کہ اب اگر نیک نیت ہو بھی جائیں اور یہ کوشش بھی کریں تو پھر بھی اپنی ساکھ قائم کرنے میں ان کو کئی سال لگیں گے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں kh5-030425