خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 97
خطبات مسرور جلد چهارم 97 خطبہ جمعہ 17 فروری 2006ء ہے یہ موقوف ہو چکا ہے۔ہاں اگر جہاد کرنا ہے تو دلائل سے کرو، براہین سے کرو۔اب مسلمانوں کی اسلام کے نام پر لڑی جانے والی جنگوں کے نتائج تو جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت کے مطابق مسلمانوں کے خلاف ہیں اور ہر آنکھ رکھنے والے کو نظر آ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا تو وعدہ ہے کہ میں مومن کی مدد کرتا ہوں اگر مومن ہو تو۔تو دو ہی باتیں ہیں یا یہ کہ یہ مسلمان مومن نہیں ہیں۔یا یہ جنگوں کا وقت غلط ہے اور زمانہ ختم ہو چکا ہے۔لیکن یا درکھیں ان لوگوں میں یہ دونوں باتیں ہی ہیں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مان کر پھر مومن تو نہیں رہ رسکتے۔اور مسیح اور مہدی کے دعوے کے بعد، اس کی بات نہ مان کر اللہ تعالیٰ کی مدد کے حقدار نہیں ٹھہر سکتے۔پس اس زمانے میں مسیح و مہدی کا جو دعوی کرنے والا ہے وہ یقینا سچا ہے۔پھر آپ نے اپنی اس سچائی کے لئے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے، ایسا دعویٰ کیا ہے جو کوئی جھوٹا نہیں کر سکتا۔آپ فرماتے ہیں کہ : میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اسی نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں سے بطور نمونه کسی قدر اس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں۔(تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503) فرمایا کہ اگر اس کے معجزانہ افعال اور کھلے کھلے نشان جو ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں میرے صدق پر گواہی نہ دیتے تو میں اس کے مکالمہ کو کسی پر ظاہر نہ کرتا اور نہ یقینا کہہ سکتا کہ یہ اس کا کلام ہے۔پر اس نے اپنے اقوال کی تائید میں وہ افعال دکھائے جنہوں نے اس کا چہرہ دکھانے کے لئے ایک صاف اور روشن آئینہ کا کام کر دیا۔(تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503 ) جو اللہ تعالیٰ کے نام کا دعویٰ کرتا ہے اگر اس کا دعوی سچا نہ ہو تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیا سلوک کرتا ہے۔خود ہی دیکھ لیں اللہ جھوٹے نبی کے متعلق فرماتا ہے ﴿وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الَّا قَاوِيْلِ۔لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ( الحاقة : 45-46) اور اگر وہ بعض باتیں جھوٹے طور پر ہماری طرف منسوب کرتا تو ہم اس کو ضرور داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر فرمایا ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ﴾ (الحاقة : 47) پھر ہم یقیناً اس کی رگ جان کاٹ دیتے۔اب کوئی بتائے کہ کیا اس دعوے کے بعد جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا کہ میں نبی ہوں اور مجھے تمام تائیدات حاصل ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی رگ جان کائی kh5-030425