خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 96

خطبات مسرور جلد چهارم 96 خطبہ جمعہ 17 فروری 2006ء جو مسیح موعود اور مہدی سے مخصوص ہے یعنی زمین جو ایمان اور توحید سے خالی ہو کر ظلم سے بھر گئی ہے پھر اس کو عدل سے پر کرنا لہذا یہی شخص مہدی اور مسیح موعود ہے اور وہ میں ہوں“۔(تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحه 114۔115) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید وضاحت فرمائی۔فرمایا کہ: حديث لَا مَهْدِى الا عيسى جو ابن ماجہ کی کتاب میں جو اسی نام سے مشہور ہے اور حاکم کی کتاب مستدرک میں انس بن مالک سے روایت کی گئی ہے اور یہ روایت محمد بن خالد الجہنی نے ابان بن صالح سے اور ابان بن صالح نے حضرت حسن بصری سے اور حسن بصری نے انس بن مالک سے اور انس بن مالک نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے اور اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ بجز اس شخص کے جو عیسی کی خُو اور طبیعت اور طریق پر آئے گا اور کوئی بھی مہدی نہیں آئے گا۔یعنی وہی مسیح موعود ہوگا اور وہی مہدی ہو گا جو حضرت عیسی علیہ السلام کی خو اور طبیعت پر طریق تعلیم پر آئے گا۔یعنی بدی کا مقابلہ نہ کرے گا اور نہ لڑے گا۔اور پاک نمونہ اور آسمانی نشانوں سے ہدایت کو پھیلائے گا۔اور اسی حدیث کی تائید میں وہ حدیث ہے جو امام بخاری نے صحیح بخاری میں لکھی ہے جس کے لفظ یہ ہیں کہ يَضَعُ الْحَرْبَ۔یعنی وہ مہدی جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے دینی لڑائیوں کو قطعاً موقوف کر دے گا۔اور اس کی یہ ہدایت ہوگی کہ دین کے لئے لڑائی مت کرو بلکہ دین کو بذریعہ سچائی کے نوروں اور اخلاقی معجزات اور خدا کے قرب کے نشانوں سے پھیلاؤ۔سومیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص اس وقت دین کے لئے لڑائی کرتا ہے یا کسی لڑنے والے کی تائید کرتا ہے یا ظاہر یا پوشیدہ طور پر ایسا مشورہ دیتا ہے یا دل میں ایسی آرزوئیں رکھتا ہے وہ خدا اور رسول کا نافرمان ہے۔یعنی اگر مسلمان دین کے نام پر لڑائی کریں تو ان کی وصیتوں اور حدود اور فرائض سے باہر چلا گیا ہے۔(حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 429-432) اب دیکھ لیں آجکل مسلمانوں کے حالات اس کی تائید کر رہے ہیں۔اگر یہ جنگیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو تیں تو اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے کہ ﴿وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ ﴾ (الروم : (48) اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر فرض ٹھہرتا ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ کی تائید نہیں مل رہی تو سوچنا چاہئے۔اگر جنگیں لڑنے کا زیادہ ہی شوق ہے تو پھر اسلام کے نام پر تو نہ لڑی جائیں۔اس زمانے میں مسلمانوں کا دوسری قوموں سے شکست کھانا یہ بھی اس بات کی خدا تعالیٰ کی طرف سے فعلی شہادت ہے کہ جو مسیح آنے کو تھاوہ آ گیا ہے۔اور يَضَعُ الْحَرْب کے تحت دینی جنگوں کا جو حکم kh5-030425