خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 621
خطبات مسرور جلد چهارم 621 خطبہ جمعہ 15/دسمبر 2006 ء کہ مندرجہ ذیل آیت ہے۔وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَاكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ (الاعراف: 157) کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔پس میں ضرور اس کو ان لوگوں کے لئے لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔پھر اقرب الموارد میں لکھا ہے کہ رحم کا معنی ہے اس کے لئے دل میں نرمی کے جذبات پیدا ہوئے ، اسے بخش دیا اور مہربانی کے جذبات کے ساتھ اس کی طرف مائل ہوا۔اِسْتَرْحَمَ اس سے مہربانی اور شفقت چاہی۔رحم جس طرح کہ میں نے پہلے بتایا تھا انہوں نے بھی اسی طرح لکھا ہے کہ رحم ماں کے پیٹ میں بچہ کی نشو و نما پانے کی جگہ، پھر قرابت ، قریبی رشتہ۔الرحمن کے بارے میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنہ میں سے ایک ہے اور صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے کسی اور کے لئے استعمال نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔الرَّحْمَة دل کی نرمی ، شفقت کے ساتھ میلان کا جذ بہ جو دوسرے سے حسن سلوک کرنے اور عفو کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔پھر لسان العرب میں لکھا ہے الرَّحْمَةُ : دل کی نرمی اور شفقت کے جذبات کے ساتھ میلان اور مغفرت۔انہوں نے رحمان اور الرحیم دو صفات لکھی ہیں کیونکہ روٹ ایک ہے۔اس میں لکھتے ہیں کہ ان میں سے رحمن مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی اس کے معنے میں کثرت پائی جاتی ہے، وہ اس طرح کہ اس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اور اسے گھیرے ہوئے ہے۔پھر کہتے ہیں رحمن صفت صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔پھر کہتے ہیں کہ رحمت کا لفظ اگر انسانوں کے حوالے سے استعمال ہو تو اس کے معنے ہیں دل کی نرمی اور دل کا مہربانی کے ساتھ مائل ہونا۔اگر رحمت کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی مہربانی ، احسان اور رفق۔پھر یہ ایک اور معنے دیتے ہیں الْغَيْث یعنی ضرورت کے وقت آنے والی فائدہ مند بارش کو بھی اللہ تعالیٰ نے رحمۃ قرار دیا ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہی برستی ہے۔تو ان سب سے یہ مطلب ہے یا جو اس کی تعریف وضع ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ رحمن خدا کے معنے ہیں انعام کرنے والا اور فضل و احسان کرنے والا، مہربانی سے توجہ کرنے والا اور رزق دینے والا۔اور یہ جو احسان اور انعام اور فضل اور مہربانی کرنا اور رزق دینا ہے یہ ہر چیز پر حاوی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ فیضان رحمانیت ہر ذی روح پر محیط ہو رہا ہے۔علامہ فخر الدین رازی لکھتے ہیں کہ الرحمن وہ ایسے انعام کرنے والی ہستی ہے کہ بندوں میں ایسے انعامات کی مثال ممکن نہیں۔66 kh5-030425