خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 596 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 596

596 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم اس کی آواز پر لبیک کہہ رہے ہیں، تیرے اس انعام کی ہم قدر کر رہے ہیں اور تجھ سے ہی دعا مانگتے ہیں کہ اب ایمان میں بھی ہمیں کامل رکھنا۔ایک ذی شعور انسان ، ایک عقل مند انسان ، ایک مومن جو اللہ تعالیٰ کے نشانات کو دیکھ کر ایمان لایا ہے، جس کی رہنمائی فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بھیجے ہوئے کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے، وہ یہ سب کچھ دیکھ کر اس بات کا نہیں سوچ سکتا کہ اپنے رب کا کامل فرمانبردار نہ بنے۔پس احمدی کا یہ اعلان ہے اور ہونا چاہئے کہ ہم تو اپنے رب کے حکم کے مطابق جو رب العالمین ہے اس کے تمام حکموں پر عمل کرتے ہوئے کامل فرمانبرداری سے اس کے آگے جھکتے ہیں اور اس کے حضور یہ عرض کرتے ہیں کہ رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفَرْعَنَّا سَيَاتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَار ( آل عمران:194) کہ اے ہمارے رب ہمارے گناہ بخش دے اور ہم سے ہماری تمام برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیکوں کے ساتھ موت دے۔ہم عاجزی سے یہ عرض کرتے ہیں کہ اب جبکہ ہم نے اس امام کو مان لیا ہے، تیرے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہماری یہ دعا قبول فرما کہ ہم اب کبھی کسی قسم کی برائیوں میں نہ پڑیں، کسی بھی قسم کی غلطیوں کا ارتکاب ہم سے نہ ہو، ہمیشہ گنا ہوں سے بچتے رہیں، پس اے ہمارے خدا تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں ہر قسم کی برائیوں سے بچائے رکھ، جب ہمارا واپسی کا وقت آئے ، اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کا وقت آئے تو ہم میں سے ہر ایک کا شمار ان لوگوں میں سے ہو جو نیک لوگ ہیں، ہمارا شمار ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے ایمانوں کو درست اور قوی کیا ، اپنے ایمانوں کو ہمیشہ دنیا کے گندا اور گردوغبار سے بچائے رکھا۔لیکن یہ بات ہمیں ہمیشہ یادرکھنی چاہئے کہ اگر ہماری دعاؤں کے ساتھ ہمارے عمل مطابقت نہیں رکھتے ہوں گے تو پھر ہماری فرمانبرداری کبھی کامل فرمانبرداری نہیں کہلا سکتی اور جب کامل فرمانبرداری نہ ہو تو پھر دعا بھی نہیں رہتی بلکہ ہمارے منہ سے نکلے ہوئے کھو کھلے الفاظ ہوتے ہیں۔پس ہمیں ہمیشہ اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ منادی کی آواز سن کر ہم جو اعلان کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم تجھے گواہ بنا رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ، کیا ہمارا یہ اعلان حقیقت پر مبنی ہے؟ کیا یہ کامل فرمانبرداری والا ایمان ہے؟ کیا ہم نے سچائی کو سمجھتے ہوئے اپنے رب کو گواہ بنا کر اس کو پکارا ہے؟ یا ماحول کے زیراثر یہ آواز لگائی ہے، یہ صدا دی ہے اور ہمیں صفت رب کا صیح طرح فہم و ادراک نہیں ہے اور یہ پکار صرف زبانی جمع خرچ ہے، کھوکھلا دعویٰ ہے، یہ کھوکھلا نعرہ ہمارے کسی کام نہیں آئے گا۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو حقیقی طور پر اس روح کو سمجھنے کی توفیق دے جو اس دعا کے پیچھے ہونی چاہئے ، اپنے رب کو پکارتے ہوئے ہمیں اپنے اندر ایک درد کی کیفیت محسوس ہو ، ہم اپنے رب کو درد سے پکار کر اپنے آپ کو نیکوں میں شامل کرنے کی درخواست کر رہے ہوں، اللہ سے یہ دعا مانگ رہے ہوں کہ ہمیں حقیقی نیک بنا دے۔پھر یہ بھی جائزے لینے ہوں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں اور ہم کسی حد تک آپ کی خواہشات پر آپ کی تعلیم پر عمل کر رہے kh5-030425