خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 586
خطبات مسرور جلد چهارم 586 خطبہ جمعہ 24 نومبر 2006 ء تَعَالَى يُحِبُّ الْمُلَحِيْنَ فِی الدُّعَاءِ یعنی اللہ تعالیٰ اُن لوگوں سے محبت رکھتا ہے جو دعا میں الحاح اور تکرار کرتے ہیں۔چوتھا فرق یہ ہے کہ ماسوی اللہ حسنین ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک ان سے مانگا نہ جائے وہ نہیں دیتے جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تو کسی سوال کرنے والے کے سوال سے قبل ہی عطا کر دیتا ہے۔چنانچہ دیکھ لیں جب آپ ماں کے پیٹ میں جنین تھے اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی پرورش کی اور اس وقت بھی کی کہ جب آپ عقل سے عاری تھے اور سوال کر ہی نہیں سکتے تھے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اس وقت بھی آپ کی حفاظت کی اور احسان فرمایا جبکہ آپ عقل و ہدایت سے محروم تھے۔پانچویں بات یہ کہ ماسوی اللہ محسن کا احسان اس محسن کے فقر، غیر حاضری یا موت کی وجہ سے منقطع ہو جاتا ہے۔یعنی جو احسان کرنے والا ہے اگر اس کے حالات خراب ہو جائیں یا موجود نہ ہو یا مر جائے تو احسان ختم ہو گیا جبکہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا سلسلہ تو کسی صورت میں منقطع نہیں ہوتا۔پھر یہ کہ اللہ کے سواحسن کا احسان دیگر قوموں کو چھوڑتے ہوئے صرف کسی ایک قوم تک محدود ہوتا ہے، اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہوتا کہ علی العموم تمام عالم کو اپنے احسان سے نوازے جبکہ اللہ تعالیٰ کے احسان اور تربیت کا فیض ہر ایک وجود تک پہنچ رہا ہے۔جیسا کہ فرما یارَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف 157) کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔یہ تمام امور ثابت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رَبِّ الْعَالَمِین اور تمام مخلوقات کو اپنے احسان کا فیض پہنچانے والا ہے۔اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن فرمایا ہے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو جسمانی فائدہ پہنچارہا ہوتا ہے وہاں روحانی فائدہ بھی پہنچاتا ہے۔اور صرف یہی نہیں کہ جسمانی فوائد ہی دے رہا ہے بلکہ مختلف قوموں میں مختلف جگہوں پر مختلف حالات میں اللہ تعالیٰ مصلح اور نبی بھیجتارہتا ہے تا کہ انسانوں کی تربیت بھی ساتھ ساتھ ہوتی رہے۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ صفت رب، ربوبیت اور تربیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔آخری سورتوں میں صفت رب کے ذکر کو اللہ تعالیٰ نے آئندہ آنے والے زمانے میں بھی انسان کی تربیت کا وسیلہ بنایا ہے۔جیسا کہ وہ ماقبل بھی انسان کی تربیت کرتا چلا آ رہا ہے۔یا گویا بندوں کی زبان سے کہا گیا ہے کہ اے میرے اللہ تربیت و احسان تیرا کام ہے، پس تو مجھے فراموش نہ کرنا اور میری امید کو نا مراد نہ کرنا۔سورۃ الفلق اور الناس کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ اس میں صفت رب کا ذکر یہ بتانے کے لئے کیا گیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ وہ ذات ہے جس کی ربوبیت اور احسان ، اے بندے ! تجھ سے کبھی بھی kh5-030425