خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 585
خطبات مسرور جلد چهارم 585 خطبہ جمعہ 24 نومبر 2006ء اور انعامات سے نواز رہا ہے۔پرانے مفسرین میں علامہ رازی کی بھی اچھی تفسیر ہے۔انہوں نے اس بات کی جو تفسیر کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے اس وجہ سے کہ وہی ہے جو ہر چیز کو جب تک وہ برقرار اور باقی ہے، بقا عطا کر رہا ہے۔یعنی وہی قائم رکھتا ہے، وہی سہارا دیتا ہے، پیچ راستے پر ڈالتا ہے، کسی بھی چیز کی بقا کے لئے جو کچھ ضروری ہے وہ مہیا فرمارہا ہے۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ مُربّی یعنی پرورش اور تربیت کرنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو اس غرض سے پرورش اور تربیت کرتے ہیں تا وہ مُربی خود اس سے فائدہ اٹھائے۔یعنی تربیت کرنے والا خود اُس سے فائدہ اٹھائے جس کی وہ تربیت کر رہا ہے۔دوسرے وہ جو اس غرض سے پرورش کرتے ہیں تا وہ شخص جس کی پرورش کی جارہی ہے وہ فائدہ حاصل کر سکے ( ذاتی فائدہ نہ ہو بلکہ دوسرے کے فائدہ کے لئے ) تو کہتے ہیں کہ مخلوقات میں سے سب کی تربیت و پرورش پہلی قسم کی ذیل میں آتی ہے کہ انسان اگر کسی کی پرورش کر رہا ہے تو اسلئے کر رہا ہے تا کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔کیونکہ وہ دوسرے کی پرورش اور تربیت اس مقصد سے کرتے ہیں تا اس سے خود بھی فائدہ اٹھا ئیں خواہ یہ فائدہ از قسم جزا ہو یا تعریف و مدح میں ہو۔یعنی چاہے اس سے ایسا فائدہ پہنچ رہا ہو جو ظاہری و مادی فائدہ ہو یا اس لئے کسی کو رکھا ہو۔بعضوں نے اپنے ساتھ لوگ رکھے ہوتے ہیں، تعریف کرنے کیلئے حوالی موالی اکٹھے کئے ہوتے ہیں۔جبکہ دوسری قسم کا مربی صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! میں نے تمہیں اس لئے پیدا کیا تا کہ تم مجھ سے فائدہ حاصل کرو نہ کہ اس غرض سے کہ میں تم سے فائدہ اٹھاؤں۔پس اللہ تعالیٰ دیگر تمام پرورش کرنے والوں اور احسان کرنے والوں کے برخلاف پرورش و تربیت کرتا اور احسان فرماتا ہے۔پھر وہ آگے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے غیر کی ربوبیت کئی جہتوں سے مختلف ہوتی ہے۔ایک فرق تو یہ بیان کر دیا جو میں نے پہلے پڑھا ہے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ کوئی بھی غیر اللہ جب کسی کی تربیت کرتا ہے تو جتنی اسکی تربیت کرنا چاہے اس کے خزانے میں اتنی کمی واقع ہوتی جاتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نقصان اور کمی کے عیب سے بہت بلند و بالا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ (الحجر:22) پھر تیسری بات وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو دیگر محسن ہیں جب کوئی محتاج ان کے سامنے اپنی ضرورت کے لئے اصرار کرے تو ناراض ہو جاتے ہیں اور اس غریب، ضد کرنے والے کو اپنی عطا سے محروم کر دیتے ہیں۔جبکہ اللہ تعالیٰ کا سلوک اس سے برعکس ہے۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ اِنَّ اللهَ kh5-030425