خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 578
خطبات مسرور جلد چهارم دین رہ سکتا ہے۔578 خطبہ جمعہ 17 /نومبر 2006 ء حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رب العالمین کی وضاحت کرتے ہوئے اس مضمون پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، اس کا خلاصہ میں پیش کرتا ہوں۔پہلی بات تو یہ کہ اس جہان کا خالق تمام نقصوں سے پاک ہے اور تمام خوبیاں اس کے اندر جمع ہیں۔دوسرے یہ کہ وہ ہر چیز کی گنہ اور حقیقت سے واقف ہے۔گزری ہوئی ، موجودہ اور آئندہ آنے والی ہر چیز کی حقیقت اس پر واضح ہے۔سائنس دان ریسرچ کرتے ہیں ، نئی نئی معلومات دیتے ہیں، انکشافات کرتے ہیں تب بھی نہیں کہہ سکتے کہ ان کا علم کامل ہو گیا۔ایک سائنسدان ایک نظریہ پیش کرتا ہے پھر عر صے بعد دوسرا اس کے رد میں مزید دلیلیں نکال دیتا ہے۔سوائے اسے جسے خدا تعالی راہنمائی فرمائے۔اور وہ بھی ایک حد تک علم حاصل کر سکتا ہے کسی چیز کا کامل احاطہ نہیں کر سکتا۔تیسری بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کامل حمد کا مالک ہے۔اور کامل حمد کا مالک ہو کر ہی رب العالمین کہلا سکتا ہے، اس کے بغیر نہیں۔چوتھی بات یہ بیان کی کہ انسان کے اندر جو بھی خصوصیات ہیں، لیاقت ہے، جسمانی یا روحانی ترقیات ہیں، یہ سب اس رب العالمین کے انعامات ہیں۔انسان کو اپنے کسی فعل کی خوبی بیان کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی حمد کرنی چاہئے کیونکہ حقیقی تعریف کا وہی مستحق ہے۔لیکن رب کی صحیح پہچان نہ رکھنے والے اپنی کامیابی کو، اپنے کسی اچھے کام کو اپنی بڑائی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو کہ مومن کا کام نہیں۔پانچویں بات یہ بیان کی کہ حمد کور بوبیت اور عالمین سے جوڑ کر یہ بتایا کہ انسان کو حقیقی خوشی اس وقت ہونی چاہئے جب اللہ تعالیٰ کی صفت رب العالمین ظاہر ہو اور اس کو ظاہر کرنے کے لئے اس کی خواہش اور کوشش یہ ہوگی کہ صرف اپنے فائدے پر ہی خوش نہ ہوتا رہے بلکہ دنیا کے نقصان پر نظر رکھے اور ہر ایک کو آرام پہنچانے کی کوشش ہو۔پس اپنے رب کا صحیح ادراک رکھنے والا کبھی کسی کو نقصان پہنچانے کا نہیں سوچتا۔چٹھی بات یہ بیان کی کہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سواہر ایک کی ربوبیت قابل غور ہے اور ارتقاء کے قانون کے ماتحت ہے۔اس میں Evolution ہے۔یعنی دنیا میں کوئی چیز نہیں جس کی ابتداء اور انتہا یکساں ہو بلکہ ادنی سے ترقی کر کے اعلیٰ کی طرف جاتی ہے اور پھر ایک حد تک پہنچ کر دوبارہ زوال شروع ہو جاتا ہے۔قرآن کریم کی مختلف آیات میں اس ارتقاء کا بیان ہوا ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس میں کوئی تغیر نہیں۔اس سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں، ایک تو یہ کہ خدا کے علاوہ تمام چیزیں مخلوق ہیں کیونکہ جو چیز ترقی کرتی ہے یا جس میں تغیر یا تبدیلی واقع ہوتی ہے وہ از خود kh5-030425