خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 508
خطبات مسرور جلد چهارم 508 خطبہ جمعہ 06 اکتوبر 2006 ء دیکھیں آج کل یہی ہو رہا ہے، جس کو موقع ملتا ہے اسلام پر حملہ کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔پس اس دُعا کی فی زمانہ بہت ضرورت ہے اور جہاں اپنے لئے دعا کریں وہاں ان دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی دعا کریں جو کفار کو، غیر مسلموں کو یہ موقع فراہم کر رہے ہیں کہ وہ اسلام پر حملے کریں۔مسلمانوں کو نعرے لگانے اور توڑ پھوڑ کی حد تک تو فکر ہے، ذرا سی کوئی بات ہو جائے تو توڑ پھوڑ شروع ہو جاتی ہے، نعرے شروع ہو جاتے ہیں، جلوس نکل آتے ہیں۔اس کے علاوہ اور کوئی فکر نہیں۔یہ کرنے کے بعد وہ سمجھتے ہیں کہ مقصد پورا ہو گیا۔اسی وجہ سے اور ان کے انہی عملوں کی وجہ سے پھر مخالفوں کو مختلف طریقوں سے اسلام پر حملے کرنے کا مزید موقع ملتا ہے اور جو جری اللہ ان حملوں سے اسلام کو بچارہا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا یہ مسلمان اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور اللہ اور رسول کا حکم نہ مان کر کافروں کے لئے اسلام کے خلاف فتنے کے سامان پیدا کر رہے ہیں اور نتیجہ پھر اللہ تعالیٰ کی بخشش سے بھی محروم ہور ہے ہیں۔پس یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ جو غالب اور حکمت والا ہے ہمیں اور تمام امت کو اپنی اس صفت سے متصف کرتے ہوئے حکمت عطا فرما تا کہ ایسی باتوں سے باز رہیں جو اسلام کو نقصان پہنچانے والی ہیں اور ہم جلد تیرے دین کے غلبے کے دن ہم جلد دیکھیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک دعا غیر ضروری سوالات سے بچنے کے لئے سکھائی ہے۔وہ دعا یہ ہے کہ رَبِّ إِنِّي أَعُوْذُبِكَ أَنْ أَسْتَلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهِ عِلْمٌ وَالَّا تَغْفِرْلِيْ وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الخسِرِينَ (هود: 48) کہ اے میرے رب یقینا میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے وہ بات پوچھوں کہ جس کے مخفی رکھنے کی وجہ کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔سیہ دعا سکھا کر اس امر سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پر حکمت کاموں کے بارے میں کوئی شکوہ نہ کیا جائے۔مثلاً دعا ہے۔ایک آدمی دعا کرتا ہے تو اس کے بارے میں بھی شکوے ہو جاتے ہیں کہ میں نے تو اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق دعا کی تھی پھر بھی اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول نہیں کی۔اللہ سے شکوے ہوتے ہیں کہ اے اللہ کیوں میری دعا قبول نہیں کی۔اگر اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پر غور کر رہے ہیں تو یہ بات سامنے رہے گی کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔اس کو تمام آئندہ آنے والی باتوں کا بھی علم ہے۔اس کو یہ بھی علم ہے کہ ہر ایک کے دل میں کیا ہے۔اس کو یہ بھی پتہ ہے کہ کیا چیز میرے بندے کے لئے ضروری اور فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے۔اس لئے کسی قسم کے شکوے کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔وہ اپنے بندے کی بعض باتوں کو اس لئے رد کرتا ہے کہ وہ انہیں اس کے لئے بہتر نہیں سمجھتا۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بعض وعدے بھی کرتا ہے، ان کو بعض باتیں سمجھا دیتا ہے لیکن اجتہادی غلطی کی وجہ سے بندہ kh5-030425