خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 486
خطبات مسرور جلد چهارم 486 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 2006 اور اللہ تعالیٰ نے جو مختلف چیزیں پیدا کی ہیں ان کی شکلیں دیکھ کر ، آسمان اور زمین میں جو مختلف چیزیں چاند ، سورج، ستارے ہیں، دنیا کی پیدائش ہے ، اس کو دیکھ کر فرمایا کہ دنیا پرست لوگوں کی طرح صرف اتنی ہی غرض نہیں رکھتے کہ مثلاً اسی پر کفایت کریں کہ زمین کی شکل یہ ہے اور اس کا قطر اس قدر ہے اور اس کی کشش کی کیفیت یہ ہے اور آفتاب اور ماہتاب اور ستاروں سے اس کو اس قسم کے تعلقات ہیں بلکہ وہ صنعت کی کمالیت شناخت کرنے کے بعد اور اس کے خواص کھلنے کے پیچھے صانع کی طرف رجوع کر جاتے ہیں۔جب ان چیزوں کو دیکھ لیتے ہیں تو پھر وہ دیکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے اس کو پیدا کرنے والا کون ہے۔اور اپنے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں“۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر 2 صفحہ 143-144) جب اس پیدا کرنے والے کا پتہ لگ جاتا ہے، خدا تعالیٰ کی عظمت کا پتہ لگتا ہے، خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا پتہ لگتا ہے تو پھر ایمان میں اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے، جب یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ ان سب چیزوں کو پیدا کرنے والا ایک خدا ہے تو اس کی ہستی اور طاقتوں پر اور یقین بڑھتا ہے۔پھر اس بات کا بھی یقین بڑھتا ہے کہ ان سب کو پیدا کرنے والا وہ زندہ خدا ہے جس نے اپنی عبادت کرنے کے لئے بھی کہا ہے، دعائیں مانگنے کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور عمل کے حساب سے اچھے اور بُرے اعمال سے بھی آگاہ کیا ہے۔تو پھر وہ پکارتا ہے کہ اے اللہ! مجھے نیک عملوں کی بھی توفیق عطا فرما تا کہ میں آگ کے عذاب سے بچوں اور تیرے پیار کی نظر ہمیشہ مجھ پر پڑتی رہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَالْحِقْنِي بِالصَّلِحِيْنَ (الشعراء:84) اے میرے رب مجھے حکمت عطا کر اور مجھے نیک لوگوں میں شمار کر۔پس یہ دعا بھی بڑی اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ فراست بھی دے، حکمت بھی دے، جو کام سپر د ہوں ان کو احسن رنگ میں انجام دینے کی توفیق بھی عطا فرمائے۔جو جماعتی ذمہ داریاں سپرد ہوئی ہیں، جہاں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے صحیح فیصلے کرنے کی توفیق دے اور ترقیات سے بھی نوازے۔ایک بندہ جب یہ کہتا ہے کہ ترقیات سے بھی نواز تو اس لئے یہ ساری چیزیں مانگتا ہے تا کہ اے خدا میں تیری رضا کی خاطر کام کرتا ہوا آگے بڑھتا چلا جاؤں۔پھر یہ بھی دعا ہے کہ مجھے اپنے احکامات کا فہم و ادراک عطا فرما اور ان خصوصیات کے حاصل ہونے کی وجہ سے میں تیرے صالح بندوں میں شمار ہوں اور یہ نیکی کا معیار بھی بڑھتا چلا جائے۔پھر فرمایاوَ اجْعَلْ لِى لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِيْنَ (الشعراء: 85 ) اور میرے لئے آخرین میں سیچ کہنے والی زبان مقدر کر دے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد میں آنے والے لوگ بھی اس بات کی گواہی