خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 487 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 487

خطبات مسرور جلد چهارم 487 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 2006 دیں کہ میں نے ہمیشہ حق وصداقت کا ساتھ دیا ہے، حکمت اور عقل سے فیصلے کئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہمیشہ پیش نظر رہا ہے اور اے اللہ ! میں پچھلوں میں بھی ان نیک کاموں سے یاد کیا جاؤں۔پھر سب سے اہم یہ دعا سکھائی کہ وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ (الشعراء: 86) اور مجھے نعمتوں والی جنتوں کے وارثوں میں سے بنا۔ایسی جنت کا وارث بنا جہاں میں تیری تمام نعمتوں کو حاصل کرتا چلا جاؤں ، جنت میں میرے درجے بڑھتے چلے جائیں۔یہ ذکر خیر اور لوگوں کی دعائیں اور اولاد کی نیکیاں اور دعائیں آخرت میں بھی ایک مرنے والے کے درجے بڑھاتی چلی جاتی ہیں۔پس اس جہان کی یہ نیکیاں اور حکمت کی باتیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیک لوگوں میں شمار، جنت میں بہتر مقام دلوانے والا بن جاتا ہے۔پس جب انسان کو جنت میں اعلیٰ درجوں کی دعا کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے تولا ز ما یہاں بھی وہ عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔دنیا میں نیک نام اولاد کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا بھی سکھا دی کہ اس دنیا کو جنت بنانے کے لئے اور آخری جنت کے وارث بننے کے لئے اپنے بیوی بچوں کے لئے بھی دعا کرو اور ان کے لئے سب سے بڑی دعا ان کا تقویٰ پر قائم رہنا ہے۔چنانچہ فرمایا وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان آیت : 75 ) اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں ( بیویوں ) اور اپنی اولاد سے، آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر۔اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نکاح سے ایک اور غرض بھی ہے جس کی طرف قرآن کریم میں یعنی سورۃ الفرقان میں اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا یعنی مومن وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا! ہمیں اپنی بیویوں کے بارے میں اور فرزندوں کے بارے میں دل کی ٹھنڈک عطا کر۔اور ایسا کر کہ ہماری بیویاں اور ہمارے فرزند نیک بخت ہوں اور ہم ان کے پیش رو ہوں۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفرقان زیر آیت نمبر 75، آریہ دھرم ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 23) پھر فرمایا کہ انسان کو سوچنا چاہئے کہ اسے اولاد کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ اس کو محض طبعی خواہش ہی تک محدود نہ کر دینا چاہئے کہ جیسے پیاس لگتی ہے یا بھوک لگتی ہے لیکن جب ایک خاص اندازہ سے گزرجاوے تو ضرور اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا