خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 482 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 482

482 خطبہ جمعہ 22 /ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چہارم دعا عالم سفلی اور علوی میں تصرف کرتی ہے اور عناصر اور اجرام فلکی اور انسانوں کے دلوں کو اُس طرف لے آتی ہے جو طرف مؤید مطلوب ہے“۔( برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 9-10) اس میں آپ نے دعا کی قبولیت کا فلسفہ بیان فرمایا ہے کہ اگر دعا کی حقیقت کا پتہ ہے تو قبولیت دعا کا بھی پتہ ہونا چاہئے کہ دعا کا فلسفہ کیا ہے، بندے اور خدا میں ایک دوسرے کو اپنے اندر جذب کرنے کی ایک قوت ہے اور یہ قوت کس طرح کام کرتی ہے؟ فرمایا کہ اس میں پہل اللہ تعالیٰ کرتا ہے کہ اپنی رحمانیت کے جلوے دکھاتا ہے۔اگر غور کریں تو انسان کی پیدائش سے پہلے ہی یہ رحمانیت کے جلوے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر ہر قدم پر، ہر لمحے انسان کی زندگی میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمانیت کے جلوے دکھاتا چلا جاتا ہے۔کس طرح بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے، یہ بھی رب العالمین کا بڑا وسیع مضمون ہے۔بہر حال خلاصہ یہ کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور فضلوں اور رحمتوں کو یادر کھے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمائے ہیں اور ایک سعید اور نیک فطرت بندہ ، ایک مومن بندہ ان چیزوں کو یاد بھی رکھتا ہے اور اس کا خدا تعالیٰ سے سچا تعلق، ہر وقت اس کے حکموں پر عمل کرنے کے لئے تیار رہنا، ہر وقت اس کے پیار کو سمیٹنے کے لئے اس کے حکموں پر نظر رکھنا ، ہر وقت اس کی رضا کے حصول کی لگن دل میں رکھنا یہ ایک سچے مومن کی نشانی ہے تو خالصہ اللہ ہو کر اگر پوری سچائی کے ساتھ ، صاف دل کے ساتھ ایک مومن اللہ تعالیٰ کا ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے اور زیادہ نزدیک ہو جاتا ہے۔اور جب خدا تعالیٰ اپنے بندے کے اس قدر نزدیک ہو جائے کہ وہ اور بندہ ایک دوسرے میں جذب ہو جائیں۔پھر جب بندہ دعا کرتا ہے تو ایسی حالت میں کی گئی دعا ایسے ایسے عجیب معجزے دکھاتی ہے جو ایک آدمی کے تصور میں بھی نہیں آ سکتے۔پس یہ حالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔عام دنیا میں بھی مشاہدہ کر کے دیکھ لیں کہ جب تکلیف کے وقت خالص ہو کر کوئی اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے تو اس وقت کیونکہ دنیا کی ہر چیز سے بے رغبتی ہوتی ہے، دنیا کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی ، مشکل میں پھنسا ہوتا ہے، مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف ہی جھک رہا ہوتا ہے ،صرف اور صرف اللہ کی ذات سامنے ہوتی ہے، تکلیفوں نے اس شخص کے اندر ایک کیفیت پیدا کی ہوتی ہے۔اس لئے اکثر لوگ جو ایسی حالت میں دعائیں کر رہے ہوتے ہیں وہ قبولیت دعا کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں۔پس اگر انسان اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کو ہر وقت سامنے رکھتے ہوئے اس کے قریب تر ہونے کی کوشش کرتا رہے، ایک کام ہونے کے بعد، ایک تکلیف دور ہونے کے بعد اس کے قریب ہونے کی کوشش کو ترک نہ کر دے تو پھر مستقل اللہ تعالیٰ استجابت دعا کے نظارے دکھاتا ہے، قبولیت دعا کے نظارے دکھاتا