خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 474 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 474

خطبات مسرور جلد چہارم 474 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 کر سکتا۔ہم آفتاب اور ماہتاب اور ہر ایک مخلوق کا سراپا دیکھ سکتے ہیں۔مگر خدا کا سراپا د یکھنے سے قاصر ہیں۔پھر فرمایا کہ وہ عالم الشہادۃ ہے۔یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو۔وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا۔وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا۔اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہو گا۔سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔پھر فرمایا هُوَ الرَّحْمٰنُ یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے، نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کی پاداش میں ان کے لئے سامان راحت میتر کرتا ہے۔جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے اور اس کام کے لحاظ سے خدا تعالیٰ رحمن کہلاتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ الرّحیم یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلا تا ہے۔اور یہ صفت رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔اور پھر فرمایا ملِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ یعنی وہ خدا ہر ایک کی جزا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔اس کا کوئی ایسا کار پرداز نہیں جس کو اس نے زمین و آسمان کی حکومت سونپ دی ہو اور آپ الگ ہو بیٹھا ہو۔اور آپ کچھ نہ کرتا ہو۔وہی کار پرداز سب کچھ جزا سزا دیتا ہو یا آئندہ دینے والا ہو۔اس کو ضرورت تو کوئی نہیں۔وہ سب قدرتوں کا مالک ہے۔اس کو یہ ضرورت نہیں کہ خدا ان کی کونسل بنائے۔اور پھر وہ کونسل ان کی مدد کرے۔تو اگر عقل کی بات کا سوال ہے کہ اسلام کے خدا کا ایسا تصور ہے جس کو عقل تسلیم نہیں کرتی۔عقل تو اُن کے تصور کو تسلیم نہیں کرتی کہ تین خدا بنائے ہوئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی جمہوری طور پر حکومت چلے گی اگر ایک بھی ان میں سے راضی نہ ہو تو فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے۔فرماتے ہیں کہ اور پھر فرمایا الْمَلِكُ الْقُدُّوس یعنی وہ خدا بادشاہ ہے جس پر کوئی داغ عیب نہیں۔یہ ظاہر ہے کہ انسانی بادشاہت عیب سے خالی نہیں۔اگر مثلاً تمام رعیت جلا وطن ہو کر دوسرے ملک کی طرف بھاگ جاوے تو پھر بادشاہی قائم نہیں رہ سکتی۔یا اگر مثلاً تمام رعیت قحط زدہ ہو جائے تو پھر خراج شاہی کہاں سے آئے۔اور اگر رعیت کے لوگ اس سے بحث شروع کر دیں کہ تجھ میں ہم سے زیادہ کیا ہے تو وہ کونسی لیاقت اپنی ثابت کرے۔پس خدا تعالیٰ کی بادشاہی ایسی نہیں ہے۔وہ ایک دم میں تمام ملک کو فنا کر کے اور مخلوقات پیدا کر سکتا ہے اگر وہ ایسا خالق اور قادر نہ ہوتا تو بجر ظلم کے اس کی بادشاہت چل نہ سکتی کیونکہ وہ دنیا کو ایک مرتبہ معافی اور نجات دے کر اور دوسری دنیا کہاں سے لاتا۔کیا نجات یافتہ لوگوں کو دنیا میں بھیجنے کے لئے پھر پکڑتا اور ظلم کی راہ سے اپنی معافی اور نجات دہی کو واپس لیتا۔تو اس صورت میں اس کی خدائی میں فرق آتا۔اور دنیا کے بادشاہوں کی طرح داغدار بادشاہ ہوتا جو دنیا کے لئے قانون بناتے