خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 402
402 خطبه جمعه 18 /اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم آسمان پر ایک بھی بادل کا ٹکڑ انظر نہیں آتا تھا، لیکن خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، آپ نے ابھی ہاتھ نیچے نہیں کئے تھے کہ بادل پہاڑوں کی مانند امڈ آئے ، ابھی آپ منبر سے بھی نہیں اترے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک پر بارش کے قطرات دیکھے، پھر لگا تارا گلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔پھر وہی بد و کھڑا ہوا اور راوی کہتے ہیں کہ وہ بدو یا کوئی اور شخص، بہر حال جو بھی شخص کھڑا ہوا اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! اب تو مکانات گرنے لگے ہیں اور مال بہنا شروع ہو گیا ہے، پس آپ ہمارے لئے دعا کریں۔آپ نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور دعا کی اَللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اے اللہ ان بادلوں کو ہمارے اردگرد لے جا اور ہم پر نہ برسا۔آپ جس بادل کی ٹکڑی کی طرف بھی اشارہ کرتے تو وہ پھٹ جاتی اور اس بارش سے مدینہ ایک حوض کی مانند ہو گیا تھا۔کہتے ہیں کہ وادی کنات ایک مہینے تک بہتی رہی ، جو شخص بھی کسی علاقے سے آتا تو اس بارش کا ذکر کرتا تھا۔(بخارى كتاب الجمعة باب الاستسقاء في الخطبة يوم الجمعة حديث نمبر 933) دیکھیں اللہ تعالیٰ کا سلوک کہ بارش اس وقت تک ہوتی رہی جب تک دوباره دعانه کردی که ارد گرد کے علاقوں میں تو ہو جائے لیکن یہاں سے ہٹ جائے۔اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو ایسے حالات ہی پیدا نہ کرتا جس سے اتنے قحط کی حالت پیدا ہو جاتی جس سے مسلمان بھی تنگ آئے ہوئے تھے اور پھر بارش اگر ہوتی تو اتنی ہوتی جتنی ضرورت تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہ سنت ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی مومنوں کی جماعت کو آزمانے اور ایمان میں مضبوطی پیدا کرنے کے لئے اور نبی کے زیادہ سے زیادہ معجزات دکھانے کے لئے ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے جو مومنوں کے لئے ایمان میں زیادتی کا باعث بنتے ہیں اور کافروں کے لئے بھی توجہ پیدا کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔اسی طرح بڑے امتحانوں ، ابتلاؤں میں بھی ہوتا ہے تا کہ مومنوں کے ایمان میں مضبوطی آئے۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے ان امتحانوں سے گزرنا چاہئے ، بہر حال مومنوں اور انبیاء کی دعاؤں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آخری نتیجہ مومنوں کے حق میں ہی ظاہر فرماتا ہے۔اس بات کا تو ضمناً ذکر آ گیا، بیان میں یہ کر رہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبولیت دعا کے واقعات اور کس طرح وہ مجیب خدا آپ کی باتوں کو پورا فرما تا تھا۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! اپنے خادم انس کے لئے دعا کریں۔آپ نے دعا کی اے اللہ ! اس کے اموال اور اس کی اولاد میں برکت ڈال دے اور جو کچھ تو اسے عطا کرے اس میں برکت ڈال۔(بخاری کكتاب الدعوات باب دعوة النبي عل الله لخادمه بطول العمر وبكثرة المال حديث نمبر (6344) چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت انس کا ایک باغ تھا، اس دعا کے بعد سال میں دو دفعہ پھل دیتا