خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 310
خطبات مسرور جلد چهارم 310 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء یہودیوں نے ایک دفعہ کسری کے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکایت کی۔سازشیں تو کرتے رہتے تھے کہ کسی طرح آپ کو نقصان پہنچا ئیں۔اور کچھ نہیں تو یہ طریقہ آزمایا گیا کہ عرب میں ایک نبی پیدا ہوا ہے اور وہ طاقت پکڑ رہا ہے اور کسی وقت تمہارے خلاف بھی جنگ کرے گا۔وہ بھی بہر حال کچھ ٹیڑھا سا انسان تھا۔اس نے یمن کے گورنر کو حکم بھیجا کہ اس طرح میں نے سنا ہے کہ عرب میں ایک شخص ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، تم اسے فوراً پکڑ کر گرفتار کرو اور گرفتار کر کے میرے پاس بھجوا دو۔چنانچہ گورنر نے دو آدمی بھیجے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ تم کوئی سختی نہ کرنا۔بادشاہ کو دھو کہ لگا ہے ورنہ عربوں میں کیا طاقت ہے کہ وہ کسری کے مقابل پر کھڑے ہوں۔اس کو کیا پتہ تھا کہ ایک وقت ان میں وہ طاقت آنے والی ہے۔لہذا جب یہ لوگ مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا کہ کس طرح آئے ہو؟ انہوں نے بادشاہ کا پیغام دیا کہ آپ کے خلاف یہ شکایتیں بادشاہ کو پہنچی ہیں جس کی وجہ سے اس نے کہا ہے کہ آپ کو گرفتار کر کے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔لیکن ساتھ انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ یمن کے گورنر نے ہمیں کہا تھا کہ سختی نہیں کرنی۔بہر حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے دو تین دن انتظار کرو پھر جواب دوں گا۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے، انتظار کر لیتے ہیں لیکن یہ ہم بتادیں کہ آپ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ایسا نہ ہو کہ آپ جواب نہ دیں اور پھر بادشاہ غصے میں آ کر حملہ آور ہو جائے۔اگر ایسا ہو گیا تو عرب کی خیر نہیں وہ پھر اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا۔بہت طاقتور بادشاہ ہے۔آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں دو دن انتظار کرو۔پھر دوسرے دن آئے تو آپ نے ان کو پھر کہا کہ ٹھہرو۔پھر وہ تیسرے دن آئے لیکن آپ یہی کہتے رہے کہ ابھی ٹھہر و۔تو تیسرے دن انہوں نے کہا کہ اب تو ہماری معیاد ختم ہوگئی ہے۔بادشاہ ہم سے بھی ناراض ہو جائے گا۔آپ ہمارے ساتھ چلیں۔تو آپ نے فرمایا: پھر میرا جواب سنو کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار ڈالا ہے۔جاؤ یہاں سے چلے جاؤ اور اپنے گورنر کو بھی اطلاع کر دو۔خیر وہ یمن آئے اور انہوں نے گورنر سے کہا کہ انہوں نے تو ہمیں یہ جواب دیا ہے۔گورنر بہر حال سمجھ دار تھا۔اس نے کہا کہ اگر اس نے ایران کے بادشاہ کو یہ جواب دیا ہے تو کوئی بات ہوگی اس لئے تم بھی انتظار کرو۔چنانچہ وہ انتظار کرتے رہے اور دس بارہ دن گزرنے کے بعد جب جہاز وہاں آیا تو انہوں نے آدمی مقرر کیا ہوا تھا کہ دیکھو کوئی خبر آئے تو بتانا۔تو انہوں نے بتایا کہ ایک جہاز تو آیا ہے، اس پر پہلے بادشاہ کا جھنڈا نہیں ہے اور طرح کا جھنڈا ہے۔تو گورنر نے کہا جلدی سے ان سفیروں کو لے کر آؤ جو بادشاہ نے بھجوائے ہیں، کوئی پیغام لائے ہوں گے۔تو جب وہ سفیر گورنر کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا ہمیں kh5-030425