خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 311
خطبات مسرور جلد چهارم 311 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء بادشاہ نے ایک خط آپ کے نام دیا ہے۔اس نے خط دیکھا اس پر مہر بھی دوسرے بادشاہ کی تھی۔جب اس نے خط کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ پہلے بادشاہ کی سختیوں کو دیکھ کر ہم نے سمجھا کہ ملک تباہ ہو رہا ہے اس لئے فلاں رات کو ہم نے اس کو قتل کر دیا تھا اور اب ہم اس کی جگہ پر بیٹھ گئے ہیں۔یہ وہی رات تھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ آج میرے خدا نے تمہارے خدا کو مار دیا ہے۔اور اس نے یہ بھی لکھا کہ سب سے میری اطاعت کا عہد لو اور یہ بھی پیغام دیا کہ پہلے بادشاہ نے عرب کے ایک آدمی کو پکڑنے کے لئے جو حکم بھیجا تھا اس کو منسوخ کر دو۔یہ چیز ایسی تھی جس کو دیکھ کر فوراً اس گورنر کے دل میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک تعلق پیدا ہوا اور اسلام کا دل میں ایک رعب پیدا ہوا اور کہا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہو گیا۔تو اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیشہ کس طرح مدد فرماتا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے اس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت تو فرمائی تھی اور ہمیشہ فرما تا رہا لیکن آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس کی مدد اور نصرت حاصل کرنے کی طرف متوجہ رہے اور ہر قدم پر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے کہ اے رب ! میری مدد فرما اور میرے خلاف (دشمن کی مددنہ فرما اور مجھے کامیابی عطا فرما اور میرے مقابل پر دشمنوں کو کا میاب نہ کر۔میرے لئے موافقانہ تدبیر کر اور میرے خلاف تدبیر نہ کر۔اور میری راہنمائی فرما اور میرے لئے ہدایت مہیا فرما اور ہر وہ شخص جو میرے خلاف حد سے بڑھ جائے ، اس پر مجھ کو کا میاب فرما۔صلى الله (جامع ترمذى۔كتاب الدعوات۔باب في دعاء النبي نمبر ) تو یہ دعا ہے جو آپ کرتے تھے اور یہ دعا بڑی جامع دعا ہے جو ہر ایک کو کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک سورۃ بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علو اور مرتبہ ظاہر کیا ہے۔اور وہ سورۃ ہے ﴿أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحبِ الْفِيْل (الفیل :2) یہ سورۃ اس حالت کی ہے کہ جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مصائب اور دکھ اٹھا ر ہے تھے۔اللہ تعالیٰ اس حالت میں آپ کو تسلی دیتا ہے کہ میں تیرا مؤید و ناصر ہوں۔اس میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے اصحاب الفیل کے ساتھ کیا کیا ؟ یعنی ان کا مکر الٹا کر ان پر ہی مارا اور چھوٹے چھوٹے جانور ان کے مارنے کے لئے بھیج دیئے۔ان جانوروں کے ہاتھوں میں کوئی بندوقیں نہ تھیں بلکہ مٹی تھی۔بجٹیل بھیگی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں۔اس سورۃ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ قرار دیا ہے اور اصحاب الفیل کے واقعہ کو پیش کر کے kh5-030425