خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 261
خطبات مسرور جلد چهارم 261 خطبہ جمعہ 26 رمئی 2006 ء حرام ہیں۔اس کا خون، اس کی آبرو اور اس کا مال۔(مسلم كتاب البر والصلة باب تحريم ظلم المسلم و خذله۔۔۔۔۔حدیث نمبر 6436) اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی خوبصورتی کو نہیں دیکھتا، نہ تمہاری صورتوں کو اور نہ تمہارے اموال کو بلکہ اس کی نظر تمہارے دلوں پر ہے۔اور ایک روایت میں ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اپنے بھائی کے خلاف جاسوسی نہ کرو، دوسروں کے عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو، ایک دوسرے کے سودے نہ بگاڑو۔اور اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔(مسلم کتاب البر والصلة باب تحريم ظلم المسلم و خاله۔۔۔۔۔۔حدیث نمبر 6437-6438 | (مسلم كتاب البر والصلة باب تحريم ظلم المسلم و خذله۔حدیث نمبر 6436) پس یہ وہ معیار ہے جو ایک احمدی کو حاصل ہونا چاہئے کہ تقویٰ سے کام لیتا ہے، جس کی اعلیٰ مثال ہمارے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی ہے۔فرمایا کہ عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔یعنی عیب تلاش کروں پھر اس کی مشہوری کروں اور پھر اس کو بدنام کروں اس معاملے میں نہ لگے رہو کیونکہ اس سے معاشرے میں فساد پیدا ہوتا ہے، بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔پس ان چیزوں سے بچنا چاہئے۔یہاں فرمایا کسی عیب کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔اگر کسی میں برائی بھی ہے تب بھی اس کو تلاش نہ کرو۔کجا یہ کہ جو برائی ہو بھی نہ وہ بھی کسی کی طرف منسوب کر کے پھر اس کو معاشرے میں بدنام کیا جائے۔ایک احمدی کا تو کام ہے کہ ایک دوسرے کی عزت کی حفاظت کرے جو ایک مسلمان کا فرض ہے نہ کہ اس کو بدنام اور رسوا کرے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو دردانہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز آگ سے اس کے چہرے کی حفاظت فرمائے گا۔(ترمذی۔كتاب البر والصله باب ماجاء في الذب عن عرض المسلم حديث نمبر (1931) پس ہر وقت اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کتنے گناہ انسان سے سرزد ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کسی کو اگر پکڑنے لگے تو انسان کا تو کچھ بھی نہیں رہتا۔اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس سلوک سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ دوسرے کی عزت کی حفاظت کرے تاکہ اپنے چہرے کو آگ سے بچا سکے ورنہ پتہ نہیں اپنے اعمال اس قابل ہیں بھی کہ نہیں کہ کسی کو جہنم کی آگ سے بچا بھی سکیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا kh5-030425