خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 198
خطبات مسرور جلد چهارم 198 خطبہ جمعہ 21 / اپریل 2006 ء جو اپنے علم کی وجہ سے یہاں ملازمتوں کی تلاش میں آئے ، کاروباری بھی ہیں۔لیکن ان میں سے بہت بڑی تعداد جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی ہے جن کو پاکستان کے حالات کی وجہ سے یہاں اسائکم ملا۔اور یہ لوگ چھوٹے موٹے کاروبار کر رہے ہیں یا ملازمتیں کر رہے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں سے بعض کی اولادیں اچھا پڑھ لکھ گئی ہیں، کچھ پڑھ رہی ہیں اور ماشاء اللہ اکثریت تعلیمی میدان میں اچھی ہے، یہ ایک بڑا اچھا شگون ہے کیونکہ نوجوانوں میں اگر پڑھنے کی عادت نہ ہو تو اپنی استعداد میں ضائع کرنے والے ہوتے ہیں۔ان نوجوانوں کا جماعت سے اخلاص و وفا کا تعلق بھی ہے۔جلسہ کی ڈیوٹیوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب نے بڑی اچھی طرح اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔اور بڑے جوش اور جذبے سے سارے کام کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ سب کو جزار - پھر یہاں رہنے والے احمدیوں میں ارد گرد کے ملکوں میں سے نجین (Fijian) احمدیوں کی بڑی تعداد ہے چند ایک اور بھی ہیں جن میں آسٹریلین بھی ہیں اور متفرق قوموں کے بھی۔تو جیسا کہ میں نے کہا کہ اکثریت پاکستانیوں کی ہے تمام ان پاکستانی خاندانوں کے نوجوان جو یہاں پیدا ہوئے یا پہلے بڑھے اور مجبین احمدی یا دوسرے غیر پاکستانی احمدی ان سب کی نظریں ان تجربہ کار درمیانی عمر کے یا بڑی عمر کے احمدیوں پر ہیں جو پاکستان سے آئے تھے۔ان سب کے خیال میں آپ لوگ دین کو جاننے والے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں یا کم از کم ہونے چاہئیں۔پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اگر آپ لوگوں نے اسے محسوس نہ کیا اور اس ذمہ داری کا جس طرح حق بنتا ہے اس کو نہ نبھایا تو اگر آئندہ آپ کی نئی نسل بگڑتی ہے، کسی کو اپنے بڑوں کی وجہ سے ٹھو کرلگتی ہے یا غیر پاکستانی احمدی جو پاکستانیوں کو دینی علم کے لحاظ سے اپنے سے بہتر سمجھتے ہیں ان کو آپ کے رویوں یا عملوں سے کوئی ٹھوکر لگتی ہے تو یقینا یہ ایک بہت بڑا ظلم ہو گا جو آپ اپنی جان پر بھی کر رہے ہوں گے اور دوسرے احمدیوں پر بھی۔اس لئے ہمیشہ اپنے نمونے قائم کرنے کے لئے جائزے لیتے رہیں اور خاص طور پر دوسروں سے تعلقات نبھانے اور معاملات نمٹانے کے تعلق میں ہر احمدی کو ایک نمونہ ہونا چاہئے۔لیکن پرانے احمدیوں اور ان لوگوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا موقعہ دیا ہے۔خاص طور پر اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے اور پھر عموماً اپنے ماحول میں اپنی ایک پہچان قائم کرنی چاہئے۔لیکن نو جوانوں اور غیر پاکستانی احمدیوں سے جو یہاں رہتے ہیں ان سے بھی میں کہتا ہوں کہ آپ نے بیعت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کی ہے۔آپ نے مسیح و مہدی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مانا ہے ، نہ کہ کسی اور کو۔اس لئے آپ کے سامنے جو نمونے ہونے چاہئیں، آپ کے kh5-030425