خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 92 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 92

خطبات مسرور جلد چهارم 92 خطبہ جمعہ 17 فروری 2006 ء اور کھلا کھلا بیان ہے اس سے کس طرح انکار کیا جا سکتا ہے، یہ لوگ کہتے ہیں۔تو اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ: اس کا جواب یہ ہے کہ آسمان سے اترنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ سچ مچ خاکی وجود آسمان سے اترے بلکہ صحیح حدیثوں میں تو آسمان کا لفظ بھی نہیں ہے۔اور یوں تو نزول کا لفظ عام ہے۔جو شخص ایک جگہ سے چل کر دوسری جگہ ٹھہرتا ہے اس کو بھی یہی کہتے ہیں کہ اس جگہ اترا ہے۔جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں جگہ لشکر اترا ہے یا ڈمیرا اترا ہے کیا اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ شکر یا وہ ڈیرا آسمان سے اترا ہے۔ماسوائے اس کے خدائے تعالیٰ نے تو قران شریف میں صاف فرما دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آسمان سے ہی اترے ہیں۔بلکہ ایک جگہ فرمایا ہے کہ لوہا بھی ہم نے آسمان سے اتارا ہے۔پس صاف ظاہر ہے کہ یہ آسمان سے اتر نا اس صورت اور رنگ کا نہیں ہے جس صورت پر لوگ خیال کر رہے ہیں“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 132-133) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حدیثیں اس کی وضاحت سے بھری پڑی ہیں۔تو لوگ خود تو اتنا علم نہیں رکھتے اور علماء غلط رہنمائی کرتے ہیں۔آپ نے اس سے آگے فرمایا اس لئے یہودیوں نے بھی غلطی کھائی تھی اور حضرت عیسی کو قبول نہیں کیا تھا۔تو بہر حال یہ ساری لمبی باتیں اور تفصیلیں ہیں ، خطبے میں تو بیان نہیں ہوسکتیں۔اب جس طرح حالات بدل رہے ہیں ، احمد یوں کو بھی چاہئے کہ ان باتوں کو کھول کر اپنے ماحول میں بیان کریں تا کہ جس حد تک اور جتنی سعید روحیں بچ سکتی ہیں بچ جائیں، جو شرفاء بچ سکتے ہیں بچ جائیں۔احمدی اپنے اپنے حلقے میں کھل کر ہر مذہب والے کو سمجھائیں کہ ہر مذہب کی تعلیم کے مطابق جس نے آنا تھا وہ آچکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”اب میں وہ حدیث جو ابو داؤد نے اپنی صحیح میں لکھی ہے ناظرین کے سامنے پیش کر کے اس کے مصداق کی طرف ان کو توجہ دلاتا ہوں۔سو واضح ہو کہ یہ پیشگوئی جوابوداؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حراث ما وراء النہر سے یعنی سمرقند سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا۔جس کی امداد اور نصرت ہر ایک مومن پر واجب ہوگی، الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا دراصل یہ دونوں پیشگوئیاں متحد المضمون ہیں اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔مسیح کے نام پر جو پیشگوئی ہے اس کی علامات خاصہ درحقیقت دو ہی ہیں۔kh5-030425