خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 93
خطبات مسرور جلد چهارم 93 خطبہ جمعہ 17 فروری 2006ء ایک یہ کہ جب وہ صحیح آئے گا تو مسلمانوں کی اندرونی حالت کو جو اس وقت بغایت درجہ بگڑی ہوئی ہوگی اپنی صحیح تعلیم سے درست کر دے گا“۔اس بارے میں شروع کے خطبوں میں بھی ذکر ہو چکا ہے۔خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی حالت بگڑی ہوئی ہے۔اور کسی مصلح کو چاہتی ہے۔تو فرمایا کہ: ”اپنی صحیح تعلیم سے درست کر دے گا اور ان کے روحانی افلاس اور باطنی ناداری کو بکلی دور فرما کر جواہرات علوم وحقائق و معارف ان کے سامنے رکھ دے گا“۔یعنی یہ خزانے ہیں اور وہ ان کے سامنے روحانی علم کی وضاحت کرے گا۔پھر فرمایا : ”یہاں تک کہ وہ لوگ اس دولت کو لیتے لیتے تھک جائیں گے اور ان میں سے کوئی طالب حق روحانی طور پر مفلس اور نا دار نہیں رہے گا بلکہ جس قدر سچائی کے بھوکے اور پیاسے ہیں ان کو بکثرت طیب غذا صداقت کی اور شربت شیریں معرفت کا پلایا جائے گا۔یعنی یہ پاکیزہ غذا جو سچائی کی ہے وہ ان کو ملے گی صحیح اسلام کی تعلیم ان کو ملے گی مسیح موعود کے ذریعہ سے ہی اور یہ جو معرفت کا میٹھا شربت ہے یہ ان کو پلایا جائے گا۔اگر یہ معرفت کا شربت پینے والے ہوتے تو غیر تعمیری قسم کا بلکہ تباہی پھیر نے والا رد عمل جو ان سے ظاہر ہوا ہے اس کی بجائے یہ ایک تعمیری رد عمل دکھاتے اور خدا کے آگے جھکنے والے ہوتے۔فرمایا : ” اور علوم حقہ کے موتیوں سے ان کی جھولیاں پُر کر دی جائیں گی۔اسلام کا جو صحیح علم ہے وہ تو ایک بڑا قیمتی خزانہ ہے، موتیوں کی طرح ہے، اس سے ان کی جھولیاں پر کرے گا۔اور جو مغز اور لب لباب قرآن شریف کا ہے اس عطر کے بھرے ہوئے شیشے ان کو دیئے جائیں گے۔یہ جو قرآن کریم کی خوشبو ہے یہ ان کو ملے گی۔پھر فرمایا کہ دوسری علامت خاصہ یہ ہے کہ جب وہ مسیح موعود آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور ختر میروں کو قتل کرے گا اور دجال یک چشم کو قتل کر ڈالے گا اور جس کا فر تک اس کے دم کی ہوا پہنچے گی وہ فی الفور مر جائے گا۔سو اس علامت کی اصل حقیقت جو روحانی طور پر مراد رکھی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح دنیا میں آ کر صلیبی زمین کی شان و شوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا۔اور ان لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے حیائی ، خوکوں کی بے شرمی یعنی سوروں کی بے شرمی وہ بھی ایک جانور ہی ہے اور نجاست خوری ہے ان پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلا کر ان سب کا کام تمام کرے گا۔اور وہ لوگ جو صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں مگر دین کی آنکھ بکلی ندارد۔بلکہ ایک بدنما ٹینٹ اس میں نکلا ہوا ہے ( یعنی آنکھ پر پھوڑا سا بنا ہوا ہے ) ان کو بین حجتوں کی سیف قاطعہ سے، ایسی دلیلیوں کی تلوار سے جو کاٹنے والی ہے ملزم کر کے ان کی منکرانہ kh5-030425