خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 76
76 خطبہ جمعہ 10 فروری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم آجکل ڈنمارک اور مغرب کے بعض ممالک کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انتہائی غلیظ اور مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے والے، ابھارنے والے، کارٹون اخباروں میں شائع کرنے پر تمام اسلامی دنیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ رہی ہے اور ہر مسلمان کی طرف سے اس بارے میں رد عمل کا اظہار ہو رہا ہے۔بہر حال قدرتی طور پر اس حرکت پر ردعمل کا اظہار ہونا چاہئے تھا۔اور ظاہر ہے احمدی بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عشق میں یقیناً دوسروں سے بڑھا ہوا ہے کیونکہ اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا فہم و ادراک دوسروں سے بہت زیادہ ہے اور کئی احمدی خط بھی لکھتے ہیں اور اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہیں، تجاویز دیتے ہیں کہ ایک مستقل مہم ہونی چاہئے ، دنیا کو بتانا چاہئے کہ اس عظیم نبی کا کیا مقام ہے تو بہر حال اس بارے میں جہاں جہاں بھی جماعتیں Active ہیں وہ کام کر رہی ہیں لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا رد عمل کبھی ہڑتالوں کی صورت میں نہیں ہوتا اور نہ آگئیں لگانے کی صورت میں ہوتا ہے اور نہ ہی ہڑتالیں اور توڑ پھوڑ، جھنڈے جلانا اس کا علاج ہے۔اس زمانے میں دوسرے مذاہب والے مذہبی بھی اور مغربی دنیا بھی اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کر رہے ہیں۔اس وقت مغرب کو مذہب سے تو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ان کی اکثریت دنیا کی لہو و لعب میں پڑ چکی ہے۔اور اس میں اس قدر Involve ہو چکے ہیں کہ ان کا مذہب چاہے اسلام ہو ، عیسائیت ہو یا اپنا کوئی اور مذہب جس سے یہ منسلک ہیں ان کی کچھ پرواہ نہیں وہ اس سے بالکل لاتعلق ہو چکے ہیں۔اکثریت میں مذہب کے تقدس کا احساس ختم ہو چکا ہے بلکہ ایک خبر فرانس کی شاید پچھلے دنوں میں یہ بھی تھی کہ ہم حق رکھتے ہیں ہم چاہے تو نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کا بھی کارٹون بنا سکتے ہیں۔تو یہ تو ان لوگوں کا حال ہو چکا ہے۔اس لئے اب دیکھ لیں یہ کارٹون بنانے والوں نے جو انتہائی قبیح حرکت کی ہے اور جیسی یہ سوچ رکھتے ہیں اور اسلامی دنیا کا جور د عمل ظاہر ہوا ہے اس پر ان میں سے کئی لکھنے والوں نے لکھا ہے کہ یہ رد عمل اسلامی معاشرے اور مغربی سیکولر جمہوریت کے درمیان تصادم ہے حالانکہ اس کا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اب تو ان لوگوں کی اکثریت جیسا کہ میں نے کہا اخلاق باختہ ہو چکی ہے۔آزادی کے نام پر بے حیائیاں اختیار کی جارہی ہیں ، حیا تقریبا ختم ہو چکی ہے۔بہر حال اس بات پر بھی ان میں سے ہی بعض ایسے لکھنے والے شرفاء ہیں یا انصاف پسند ہیں انہوں نے اس نظریے کو غلط قرار دیا ہے کہ اس رد عمل کو اسلام اور مغربی سیکولر جمہوریت کے مقابلے کا نام دیا جائے۔انگلستان کے ہی ایک کالم لکھنے والے رابرٹ فسک (Robert Fisk) نے کافی انصاف سے کام لیتے ہوئے لکھا ہے۔ڈنمارک کے ایک صاحب نے لکھا تھا کہ اسلامی معاشرے اور مغربی سیکولر جمہوریت kh5-030425