خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 77

خطبات مسرور جلد چهارم 77 خطبہ جمعہ 10 فروری 2006ء کے درمیان تصادم ہے اس بارے میں انہوں نے لکھا کہ یہ بالکل غلط بات ہے، یہ کوئی تہذیبوں کا یا سیکولر ازم کا تصادم نہیں ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ آزادی اظہار کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔بات صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق پیغمبر پر خدا نے براہ راست اپنی تعلیمات نازل کیں وہ زمین پر خدا کے ترجمان ہیں جبکہ یہ ( یعنی عیسائی) سمجھتے ہیں، (اب یہ عیسائی لکھنے والا لکھ رہا ہے ) کہ انبیاء اور ولی ان کی تعلیمات انسانی حقوق اور آزادیوں کے جدید تصور سے ہم آہنگ نہ ہونے کے سبب تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہو گئے ہیں۔مسلمان مذہب کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں اور صدیوں کے سفر اور تغیرات کے باوجود ان کی یہ سوچ برقرار ہے جبکہ ہم نے مذہب کو عملاً زندگی سے علیحدہ کر دیا ہے۔اس لئے ہم اب مسیحیت بمقابلہ اسلام نہیں بلکہ مغربی تہذیب بمقابلہ اسلام کی بات کرتے ہیں اور اس بنیاد پر یہ بھی چاہتے ہیں کہ ب ہم اپنے پیغمبروں یا ان کی تعلیمات کا مذاق اڑا سکتے ہیں تو آخر باقی مذاہب کا کیوں نہیں۔پھر لکھتے ہیں کہ کیا یہ رویہ اتناہی بے ساختہ ہے۔کہتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ کوئی 10-12 برس پہلے ایک فلم Last Temptation of christ ریلیز ہوئی تھی جس میں حضرت عیسی کو ایک عورت کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھانے پر بہت شور مچا تھا۔اور پیرس میں کسی نے مشتعل ہو کر ایک سینما کو نذر آتش کر دیا تھا۔ایک فرانسیسی نو جوان قتل بھی ہوا تھا۔اس بات کا کیا مطلب ہے۔ایک طرف تو ہم میں سے بھی بعض لوگ مذہبی جذبات کی تو ہین برداشت نہیں کر پاتے مگر ہم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ مسلمان آزادی اظہار کے ناطے گھٹیا ذوق کے کارٹونوں کی اشاعت پر برداشت سے کام لیں۔کیا یہ درست رویہ ہے۔جب مغربی رہنما یہ کہتے ہیں کہ وہ اخبارات اور آزادی اظہار پر قدغن نہیں لگا سکتے تو مجھے ہنسی آتی ہے۔کہتے ہیں کہ اگر متنازعہ کارٹونوں میں پیغمبر اسلام کی بجائے بم والے ڈیزائن کی ٹوپی کسی یہودی ریبی Rabbi) کے سر پر دکھائی جاتی تو کیا شور نہ مچتا کہ اس سے اینٹی سمٹ ازم (Anti Semitism) کی بو آتی ہے یعنی یہودیوں کے خلاف مخالفت کی بو آتی ہے اور یہودیوں کی مذہبی دلآزاری کی جا رہی ہے۔اگر آزادی اظہار کی حرمت کا ہی معاملہ ہے تو پھر فرانس، جرمنی یا آسٹریا میں اس بات کو چیلنج کرنا قانوناً کیوں جرم ہے کہ دوسری عالمی جنگ میں یہودیوں کی نسل کشی نہیں کی گئی۔ان کارٹونوں کی اشاعت ے اگر ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی جو مسلمانوں میں مذہبی اصلاح یا اعتدال پسندی کے حامی ہیں اور روشن خیالی کے مباحث کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو اس پر بہت کم لوگوں کو اعتراض ہوتا۔لیکن ان کارٹونوں سے سوائے اس کے کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام ایک پر تشدد مذہب ہے۔ان کارٹونوں نے جہاں چہار جانب اشتعال پھیلانے کے اور کیا مثبت اقدام کیا ہے۔(روز نامہ جنگ لندن - 7 فروری 2006 ، صفحہ 3،1) بہر حال کچھ رویہ بھی مسلمانوں کا تھا جس کی وجہ سے ایسی حرکت کا موقع ملا لیکن ان لوگوں میں شرفاء بھی ہیں جو حقائق بیان کرنا جانتے ہیں۔kh5-030425