خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 61
خطبات مسرور جلد چهارم 61 خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006 ء فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔الفاظ یہ ہیں کہ عُلَمَاءُ هُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيْمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيْهِمْ تَعُودُ۔(کنزالعمال،جلد اول، كتاب الفتن قسم الاول ص 20 حدیث نمبر 31133دار لكتب العلميه بيروت بدترین مخلوق ہوں گے اور ان میں سے بھی فتنے اٹھیں گے۔اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے۔یعنی تمام خرابیوں کے یہی سر چشمے ہوں گے۔تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے کہ اپنے علماء کو بھی دیکھیں، ان کے قول و فعل کو دیکھیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ہمارے احمدیوں میں بھی بہت سارے لکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ معصوم جانیں کیوں ضائع ہوتی ہیں۔کچھ تو آپ نے سن لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے پیش کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : مکہ میں جب قحط پڑا تو اس میں بھی اوّل غریب لوگ ہی مرے۔لوگوں نے اعتراض کیا کہ ابو جہل جو اس قدر مخالف ہے وہ کیوں نہیں مرا۔فرمایا: ” حالانکہ اس نے تو جنگ بدر میں مرنا تھا“۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک وقت رکھا ہوا تھا کس طرح اس نے مرنا ہے تا کہ لوگوں کے لئے نشان بنے۔فرماتے ہیں کہ : ” یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ابتلاء ہوا کرتا ہے۔اور یہ اس کی عادت ہے اور پھر اس کے علاوہ یہ اس کی مخلوق ہے۔اس کو ہر ایک نیک اور بد کا علم ہے۔سزا ہمیشہ مجرم کے واسطے ہوا کرتی ہے۔غیر مجرم کے واسطے نہیں ہوتی۔بعض نیک بھی اس سے مرتے ہیں۔مگر وہ شہید ہوتے ہیں اور ان کو بشارت ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ سب کی نوبت آ جاتی ہے“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 650 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر ایک سوال ہوا کہ سان فرانسسکو میں جو زلزلہ آیا ہے، یہ بھی آپ کا نشان ہے۔آپ کی باتوں سے لگتا ہے تو اس پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا تھا کہ میں نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ تمام زلزلے جو سان فرانسسکو وغیرہ مقامات میں آئے ہیں یہ محض میری تکذیب کی وجہ سے آئے ہیں۔کیونکہ اس زمانے میں بعض جگہوں پر پیغام تو نہیں پہنچا ہو گا۔فرمایا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ یہ میری تکذیب کی وجہ سے آئے ہیں، کسی اور امر کا اس میں دخل نہیں۔ہاں میں کہتا ہوں کہ میری تکذیب ان زلزلوں کے ظہور کا باعث ہوئی ہے۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام نبی اس بات پر متفق ہیں کہ عادت اللہ ہمیشہ سے اس طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہو جاتے ہیں۔تب اس زمانے میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے اور کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے تب اس کا مبعوث ہونا دوسرے شریر لوگوں کو سزا دینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہو چکے ہیں ایک محرک ہو جاتا ہے۔kh5-030425