خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 638
خطبات مسرور جلد چهارم 638 خطبہ جمعہ 22 /دسمبر 2006 ء ہر احمدی کا کام ہے کہ اٹھے اور خدا تعالیٰ کے تصور کی صحیح تصویر اور اسلام کا صحیح تصور پیش کر کے ان لوگوں کو اس بھنگی ہوئی راہ سے واپس لائے اور اکثریت کے دل میں خدا تعالیٰ اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور خدا تعالیٰ کے مقدس بندوں کے لئے محبت اور اخلاص کے جذبات پیدا کر دیں تا کہ تمام انسانیت جنگوں کی بجائے سچائی پر قائم ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والی بنے اور روحانیت میں ترقی ہو اور اگر ایسا ہو جائے گا تو پھر یقینا خدا پر الزام لگانے والے اس کے آگے جھکنے والے بن جائیں گے۔انشاء اللہ۔چند لوگوں کی حرکتوں سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ اس قوم میں احمدیت پھیلے گی اور جس طرح آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے جرمن احمدی اپنے ہم قوموں کے اس ظالمانہ رویے سے شرمندہ ہورہے ہیں۔آئندہ انشاء اللہ لاکھوں کروڑوں جرمن احمدی ان لوگوں کے خدا اور انبیاء کے بارہ میں غلط نظریہ رکھنے پر شرمندہ ہوں گے۔جرمن ایک باعمل قوم ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اگر آج کے احمدی نے اپنے فرائض تبلیغ احسن طور پر انجام دیئے تو اس قوم کے لوگ ایک عظیم انقلاب پیدا کر دیں گے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ اسیح الثانی نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ جرمن قوم کا کیریکٹر بلند ہے اور انہوں نے ہمبرگ شہر کو اتنی جلدی تعمیر کر لیا کہ حیرت ہوتی ہے۔پھر فرمایا کہ جرمن قوم اس زندہ روح کے ساتھ ضرور جلد از جلد اسلام کو جو خود اس روح کو بلند کرنے کے لئے تعلیم دیتا ہے قبول کرے گی۔پس ہمارا یہ کام ہے کہ پیغام پہنچانا ہے جس میں ابھی بہت گنجائش ہے۔لٹریچر جو یہاں آپ کے پاس ہے اس کا بھی میں نے اندازہ لگایا ہے کہ ایک وقت میں چھپا اور ایک مہم کی صورت میں لگتا ہے کہ چند ہزار میں تقسیم ہوا اور پھر خاموشی سے بیٹھ گئے۔بجائے اس کے کہ دوبارہ اس کی اشاعت کرتے۔یا پھر سٹاک میں موجود ہے، کافی تعداد میں سٹاک میں پڑا ہوا ہے ، وہ بھی غلط ہے کہ تقسیم نہیں ہوا۔آجکل موقع کی مناسبت سے لٹریچر آنا چاہئے اور یہ جو سوال اٹھتے ہیں یہ آج کے سوال نہیں ہیں۔یہ ہمیشہ سے اٹھ رہے ہیں۔ان کے جواب تیار پڑے ہیں۔صرف آگے پہنچانے کی ضرورت ہے۔ہر احمدی کے پاس یہ لٹریچر ہونا چاہئے۔ہر احمدی مرد، عورت، بوڑھے اور جو ان کو حالات کے مطابق بھی اور عمومی تبلیغی لٹریچر بھی ہر جرمن تک پہنچانا چاہئے یا پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔آجکل انٹرنیٹ اور ای میل وغیرہ کا استعمال بھی اس کام کے لئے ہورہا ہے۔اس کے بارے میں بھی غور کریں کہ کس طرح استعمال کرنا ہے ، کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔اس کے غلط استعمال جو ہور ہے ہیں تو اس کا صحیح استعمال کیوں نہ کیا جائے۔وقتا فوقتا ہر مبر پارلیمنٹ ، ہروزمیر، ہر بڑے kh5-030425