خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 629 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 629

629 خطبہ جمعہ 15/دسمبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم لفظوں سے ان کا معاوضہ کرتے ہیں۔یعنی اگر کوئی سختی سے پیش آتا ہے تو سلام کہہ کر اور نرمی سے رحمت کے الفاظ استعمال کر کے ان کو جواب دیتے ہیں۔ان لفظوں سے ان کا معاوضہ کرتے ہیں۔نرمی سے ان کو جواب دیتے ہیں۔یعنی بجائے سختی کے نرمی اور بجائے گالی کے دعا دیتے ہیں۔اب احمدیوں کو بے انتہاء گالیاں پڑتی ہیں، گالیوں کا جواب گالیوں سے نہیں دیا جاتا بلکہ دعا دیتے ہیں۔” اور تشبہ باخلاق رحمانی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے جو اخلاق ہیں وہ ان کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ رحمان بھی بغیر تفریق نیک و بد کے اپنے سب بندوں کو سورج اور چاند اور دوسری بیشمار نعمتوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔پس ان آیات میں خدا تعالیٰ نے اچھی طرح کھول دیا کہ رحمان کا لفظ ان معنوں کر کے خدا پر بولا جاتا ہے کہ اس کی رحمت وسیع عام طور پر ہر یک بُرے بھلے پر محیط ہو رہی ہے۔جیسا کہ ایک جگہ اور بھی اسی رحمت عام کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔عَذَابِي أُصِيْبُ بِهِ مَنْ اَشَاءُ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ ءٍ (الاعراف: 157) یعنی میں اپنا عذاب جس کو لائق اس کے دیکھتا ہوں پہنچاتا ہوں۔اور میری رحمت نے ہر یک چیز کوگھیر رکھا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمانیت کی وجہ سے معاف کرنے کی طرف زیادہ راغب ہے۔اور پھر ایک اور موقعہ پر فرما یا قُلْ مَنْ يُكْلَؤُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ (الانبياء: 43) یعنی ان کا فروں اور نافرمانوں کو کہہ کہ اگر خدا میں صفت رحمانیت کی نہ ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ تم اس کے عذاب سے محفوظ رہ سکتے۔یعنی اس کی رحمانیت کا اثر ہے کہ وہ کافروں اور بے ایمانوں کو مہلت دیتا ہے اور جلد تر نہیں پکڑتا۔بعض لوگ سوال کر دیتے ہیں نا کہ جماعت پر ، احمدیوں پر اتنے ظلم ہو رہے ہیں کیوں عذاب نہیں آتا ؟ تو اصل میں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمانیت کے جلوے دکھاتا ہے۔پھر ایک اور جگہ اسی رحمانیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَفْتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمن (الملك : 20) یعنی کیا ان لوگوں نے اپنے سروں پر پرندوں کو اڑتے ہوئے نہیں دیکھا کہ کبھی وہ بازو کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں۔رحمان ہی ہے کہ ان کو گرنے سے تھام رکھتا ہے۔( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اول صفحه 447 تا 450 حاشیہ نمبر 11 تو اللہ تعالی کا جو یہ فیض ہے وہ ہر چرند پرند ہر ذی روح پر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا حاوی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس رحمن خدا کی پہچان کی توفیق عطا فرمائے۔اس کا فیض عام اور اس کی رحمت جو ہر چیز پر حاوی ہے ، ہمیں اس کی عبادت کی طرف مزید توجہ دلانے والی ہو اور پھر اس فیض کو اپنی زندگیوں پر kh5-030425