خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 616
616 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم اس طرح کے بے شمار الہامات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دعا ئیں سکھائیں اور پھر انہیں قبول فرمایا۔تو جہاں یہ قبولیت دعا کے نشانات ہیں ربوبیت کے جلوے کا بھی اظہار ہے۔ایک دو اور مثالیں میں دے دیتا ہوں۔ایک الہام ہے رَبِّ أَخِرْ وَقْتَ هَذَا أَخَرَهُ اللهُ إِلى وَقْتِ مُسَمًّى “ کہ اے خدا بزرگ زلزلہ کے ظہور میں کسی قدر تاخیر کر دے۔تو اگلا حصہ ہے اَخَّرَهُ اللَّهُ إِلى وَقْتِ مُسَمًّى که خدا نمونہ قیامت کے زلزلہ کے ظہور میں ایک وقت مقررہ تک تاخیر کر دے گا۔(تذکرہ صفحہ 556-557) پھر ہے کہ رَبِّ أَخْرِجْنِي مِنَ النَّارِ کہ اے میرے رب مجھے آگ سے نکال۔اور اگلا حصہ پھر الہام ہوتا ہے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی اَخْرَجَنِي مِنَ النَّارِ کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے آگ سے نکالا۔( تذکرہ صفحہ 612) یہاں بھی پہلے دعا سکھائی پھر قبولیت کا نشان۔پھر ایک دعا ہے رَبِّ اَرِنِى انْوَارَكَ الْكُلِيَّةَ اے میرے رب مجھے اپنے وہ انوار دکھا جو مُحيطِ كُل ہوں۔إِنِّي أَنَرْتُكَ وَاخْتَرْتُكَ کہ میں نے تجھے روشن کیا اور تجھے برگزیدہ کیا۔یہاں بھی وہی اظہار ہے۔( تذکرہ صفحہ 534) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: کچھ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ مجھ کو خواب آیا تھا کہ ایک جگہ میں بیٹھا ہوں یک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ غیب سے کسی قدر روپیہ میرے سامنے موجود ہو گیا ہے۔میں حیران ہوا کہ کہاں سے آیا۔آخر میری رائے ٹھہری کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے نے ہماری حاجات کے لئے یہاں رکھ دیا ہے۔پھر ساتھ الہام ہوا کہ إِنِّي مُرْسِلٌ إِلَيْكُمْ هَدِيَّة کہ میں تمہاری طرف بھیجتا ہوں اور ساتھ ہی میرے دل میں پڑا کہ اس کی یہ تعبیر ہے کہ ہمارے مخلص دوست حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب ایک فرشتہ کے رنگ میں متمثل کئے گئے ہوں گے اور غالباوہ روپیہ بھیجیں گے اور اس خواب کو عربی زبان میں اپنی کتاب میں لکھ دیا۔از مکتوب 6 مارچ 1895ء بنام سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی مکتوبات احمد یہ جلد 5 حصہ اول صفحہ 3 بحوالہ تذکرہ صفحہ 225-226 ) چنانچہ تصدیق ہوگئی اور الہام پورا ہو گیا۔فرماتے ہیں کہ 18 برس سے ایک یہ پیشگوئی ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصّهْرَ kh5-030425