خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 55
خطبات مسرور جلد چهارم 55 خطبہ جمعہ 27 /جنوری 2006 ء پھر یہ لکھتے ہیں کہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے دوری کی زندگی بن چکی ہے۔تو تب بھی نہیں سمجھ رہے۔باتیں تو صحیح کر رہے ہیں لیکن نتیجے غلط نکال رہے ہیں۔اگر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ نہیں چمٹیں گے آنے والے مسیح کے ساتھ نہیں چمٹیں گے تو یہ دوری تو بڑھتی جائے گی کیونکہ اللہ کے رسول کے حکم کی پابندی نہیں کر رہے۔پھر کہتے ہیں کہ وہ تمام علامات جو زلزلوں کی آمد کی بتائی گئی ہیں وہ آج ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔پھر عبدالغفار روپڑی صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب تو میں نافرمانی میں حد سے بڑھ جائیں اور ظلم وفسق کی انتہا ہو جائے تو سزا ملتی ہے۔پھر ایک پروفیسر عبدالرحمان صاحب لودھیانوی ہیں، کہتے ہیں کہ ارشاد باری ہے ہم ان لوگوں کو بڑے عذاب یعنی قیامت کے آنے سے پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں میں مبتلا کریں گے تا کہ یہ دین کی طرف لوٹ آئیں۔اس فرمان الہی کی روشنی میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ زلزلہ ایک تنبیہ اور ایک وارننگ ہے کہ اپنے اعمال ٹھیک کر لو۔عذاب اسی وقت آتا ہے جب قوم شرک و بدعت، کفر و طغیان میں بے حیائی اور خود غرضی کا شکار ہو جائے۔جس مقام پر سونامی آیا وہاں بھی لوگ حدوں سے گزر چکے تھے۔اس زلزلے کو قیامت کی دیگر علامات کی طرح علامت تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کو حتمی طور پر نزول عیسی کا پیش خیمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، یعنی علامت تو ہے لیکن حتمی بات نہیں ہوسکتی ، ابھی انتظار ہے۔پھر کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں قیامت کی بعض علامات بیان فرمائی ہیں ان کے ظہور کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت عنقریب آنے والی ہے۔ان میں سے بعض ظاہر ہو چکی ہیں ، مثلاً والدین کی نافرمانی ، بلند و بالا عمارات کی تعمیر وغیرہ۔پھر کہتے ہیں کہ زلزلے کے اسباب میں حکومت کی نام نہاد روشن خیالی کی تعلیم اور عوام کی اسلامی تعلیمات سے روگردانی ہے۔پھر کہتے ہیں کہ زلزلے میں مبتلا ہونے کے اسباب کا اندازہ ہم بنی اسرائیل پر آنے والے عذابوں سے لگا سکتے ہیں یا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق کہ جب تباہی ہوگی تو بُروں کے ساتھ سبھی ہلاک ہوں گے مگر قیامت کے روز ان کی نیتوں یا اعمال کے مطابق سلوک ہوگا۔ہمیں اس زلزلے پر غور و فکر کے ساتھ ساتھ اس کے متاثرین کی امداد پر توجہ دینی چاہئے۔پھر ایک شیعہ عالم ہیں حافظ کاظم رضا ، وہ کہتے ہیں کہ آج پاکستان کا ہر فرد اس زلزلے سے متاثر ہو چکا ہے یہ سانحہ مسلمانوں کے لئے تنبیہ ہے تاکہ بندے اپنے خالق کے راستے پر چل پڑیں۔سب سے پہلے ہدایت کا راستہ اپنا ئیں جس مقصد کے لئے مخلوق کو خلق کیا۔انسان کو انسانیت کی منزل پر فائز رکھنے کے لئے اچھے راستے کی ہدایت کی۔فطرت طبع کے مطابق انسان خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔چنانچہ انسان کو سیدھی راہ پر چلانے کے لئے انبیاء وصحائف بھیجے گئے۔جب بھی انسان راہ ہدایت سے ہٹنے لگا تو kh5-030425