خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 610
خطبات مسرور جلد چهارم 610 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006ء سنت خاندان نبوت ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کا جو نور ہے اس سے حصہ پانے کے لئے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے روزے رکھنا بھی سنت نبوی ہے ، انبیاء کی سنت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں یہ سنت اہل بیت اور رسالت کو بجالاؤں“۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس دوران مجھ پر عجیب عجیب مکاشفات کھلے۔کئی سابقہ انبیاء اور اولیاء سے ملاقاتیں ہوئیں۔عین بیداری کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت حسین ، حضرت علی اور حضرت فاطمہ کو دیکھا۔پھر فرماتے ہیں کہ ”جب میں نے چھ ماہ کے روزے رکھے تو ایک طائفہ، ایک وفد انبیاء کا مجھے ملا اور انہوں نے کہا کہ تم نے کیوں اپنے نفس کو مشقت میں ڈالا ہوا ہے اس سے باہر نکل۔تو فرماتے ہیں کہ ” جب اس طرح انسان اپنے آپ کو خدا کی راہ میں مشقت میں ڈالتا ہے تو وہ ماں باپ کی طرح رحم کر کے اسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقت میں پڑا ہے۔تو اس طرح اپنے بندے کا خیال کرنا بھی صفت رب کا ہی فیض ہے۔بہر حال انبیاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا علیحدہ سلوک ہے، اس کا سب سے زیادہ اظہار آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں ہوا اور پھر ہر ایک کے ساتھ اپنے اپنے لحاظ سے ہوتا ہے۔ان روزوں کے دنوں میں حضرت مسیح موعود کی خوراک چند لقھے تھے بلکہ لکھا ہے کہ چند تو لے خوراک ہو گئی۔تو اللہ تعالیٰ اپنے آقا کی غلامی میں آپ کو یہ جلوہ دکھا رہا تھا لیکن ہر کوئی یہ نہیں کر سکتا۔عام مسلمانوں کے لئے تکلیف مالا يطاق تھی ، طاقت سے باہر تھی اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر سحری کھانے کے روزہ رکھنے سے خود ہی روکا تھا۔پھر ایک واقعہ جو معجزے میں بیان کیا جاتا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے تحت ہی ہے۔جب جنگ میں بھوکوں کو کھانا کھلایا اور ایک ہزار صحابہ نے کھانا کھایا۔جنگ خندق کے موقع پر جب ایک صحابی نے گھر جا کر اپنی بیوی سے پوچھا کہ گھر میں کچھ کھانے کو ہے؟ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت دیکھی ہے۔بھوک سے بہت تکلیف والی حالت تھی میرے سے برداشت نہیں ہو سکی۔تو اس نے کہا کہ چھوٹی سی بکری ہے اور کچھ تھوڑا سا آتا ہے۔تو انہوں نے بکری ذبح کر کے دی کہ اس کو پکاؤ اور آٹا گوندھو میں بلا کے لاتا ہوں۔ان کا نام جابر تھا۔کہتے ہیں میں گیا اور بڑی آہستگی سے تا کہ کوئی اور نہ سن لے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے پاس کچھ گوشت اور جو کا آتا ہے، ان کے پکانے کے لئے میں اپنی بیوی سے کہہ آیا ہوں، آپ اپنے چند اصحاب کے ساتھ تشریف kh5-030425