خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 605
خطبات مسرور جلد چهارم 605 خطبہ جمعہ 08/دسمبر 2006 ء فلاسفر اس سے بہت پیچھے رہ گئے۔الحكم 17 اپریل 1900ء صفحہ 3۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد نمبر صفحہ (171) تو دیکھ لیں جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن کریم زندہ کتاب تھی، اُس وقت اور اُن حالات کے مطابق اُن لوگوں کے لئے نصیحت تھی، اُن کے سوالوں اور اُن کی ضروریات کو پورا کر رہی تھی ، آج اس زمانے میں جب انسان کے سامنے نئے نئے مضامین اور ایجادات ہیں تو اس بارے میں بھی یہ کتاب خبر دے رہی ہے اور یہ سب معجزے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کسی دنیاوی علم اور فلسفے کو جاننے والے کا کام نہیں ہے بلکہ اس رب العالمین کا کام ہے جس نے پہلے دن سے ہی آپ کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔آپ کے اٹھنے بیٹھنے، آپ کے مزاج ، آپ کی تربیت کی انفرادیت اس زمانے میں بھی ہر ایک کو نظر آتی تھی۔یہ سب تربیت کسی اکیڈمی کی یا کسی ادارے کی یا کسی شخص کی مرہون منت نہیں تھی بلکہ یہ تربیت، یہ سب ٹریننگ براہ راست اس رب العالمین کا کام تھا۔تو آپ کے ان سب علوم کو نہ جاننے بلکہ پڑھنا تک نہ جاننے کی گواہی قرآن کریم نے دی ہے۔پہلی وحی پر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مَا أَنَا بِقَارِی کہ میں تو پڑھنا نہیں جانتا ، تو فرشتے نے تین دفعہ اپنے ساتھ لگا کر بھینچا لیکن ہر دفعہ آپ کا یہی جواب ہوتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (العلق : 2 ) اپنے رب کا نام لے کر پڑھ جس نے سب اشیاء کو پیدا کیا ہے۔اور پھر دیکھ لیں اس رب نے جس نے زمین و آسمان کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے، آپ کے ذریعہ سے علوم و معرفت کے وہ خزانے ہم تک پہنچائے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔اور معترضین ، جن میں آج کے پوپ بھی شامل ہو گئے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ قرآن نے نیا کیا دیا؟ اس پہلی وحی میں ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے یہ اعلان فرما دیا تھا کہ رب کا تصور تو ہر مذہب میں ہے لیکن ہر مذہب نے اس میں بگاڑ پیدا کر لیا ہے اور اس رب کے تصور کو بگاڑنے کے بعد چھوٹے چھوٹے رب پیدا کر لئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کے ذریعہ سے رب کی پہچان کرو جس کی ہر بات کا آغاز ہی اپنے رب کے نام کے ساتھ ہوتا ہے جو خالصتاً میری پرورش میں پروان چڑھا ہے اور اس کے علوم و معرفت کے کمالات کا منبع بھی میں ہی ہوں۔لیکن جنہوں نے ظلم پر ہی کمر کس لی ہو اور جہالت اور بغض اور عناد ان کا شیوہ ہوان کو کچھ نظر نہیں آتا کہ کیا نئی چیز دی۔قرآن نے پہلے ہی اس کا اعلان فرما دیا ہے کہ یہ جو تعلیم ہے ان کی سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ایسے لوگوں کو اس دشمنی کی وجہ سے قرآن کریم کے نشانات اور آیات بجائے فائدہ دینے کے اور اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ان کو خسارے میں بڑھا ئیں گے۔پس یہ ان کی قسمت ہے۔kh5-030425