خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 591 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 591

خطبات مسرور جلد چهارم 591 خطبہ جمعہ 24 نومبر 2006 ء نیک بندوں اور جوسید ھے راستے پر لوٹ آنے والے ہوں، کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو اس ماں سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کو اپنے گم شدہ بچے کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے۔نیک کام کرنے پر ہمارا رب کس طرح نوازتا ہے، اس کا ایک حدیث میں ذکر آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو پاک کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کرے اور پاکیزہ چیز ہی اللہ کی طرف جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے پھر اسے بڑھاتا جاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے پچھیرے ( گھوڑے کے بچے ) کی پرورش کرتا ہے۔(بخاری کتاب التوحيد باب قول الله تعالى تعرج الملئكة والروح اليه وقوله اليه يصعد الكلم الطيب۔) گھوڑے کا بچہ تو ایک عمر تک آ کے رک جاتا ہے۔فرمایا یہ جو تم صدقے کرتے ہو وہ یہاں تک بڑھاتا ہے کہ وہ پہاڑ جیسا بڑا ہو جاتا ہے۔تو یہ ہیں ہمارے رب کے احسان کرنے کے معیار۔کیا ایسے رب کو چھوڑ کر بندہ کسی اور طرف جانا پسند کرے گا یا کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔لیکن لاشعوری طور پر ہم سے کئی ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف ہوتی ہیں، اس کی تعلیم کے خلاف ہوتی ہیں، اس کے احکامات کے خلاف ہوتی ہیں۔تو اس لئے ہمیشہ اس کی مغفرت طلب کرتے رہنا چاہئے اور مغفرت طلب کرنے کے راستے بھی ہمارے اسی رب نے ہمیں دکھائے ہیں اور سکھائے ہیں تا کہ یہ انعاموں اور احسانوں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمیشہ میرے سے استغفار کرتے رہو، میرے سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہوتا کہ میں تم پر انعامات اور احسانات کی بارش کرتار ہوں۔پس اس زمانے میں ہر احمدی کو چاہئے کہ ہمیشہ رَبُّنَا اللہ کو اپنے ذہن میں دو ہرا تار ہے، جبکہ ہر ایک نے بہت سے رب بنائے ہوئے ہیں جو ظاہری نہیں چھپے ہوئے ہیں، شرک انتہا کو پہنچا ہوا ہے، زمانے کے امام کا انکار کر کے خود مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کو محدود کر دیا ہے اور کر رہے ہیں کہ زمانے کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ کوئی نبی نہیں بھیج سکتا جبکہ اس کی ضرورت ہے۔ایک طرف ضرورت کا اظہار کر رہے ہیں، دوسری طرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے بھی انکاری ہو رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے میں اس صفت کے تحت بغیر مانگے بھی دیتا ہوں اور حالات کو بہتر کر رہا ہوتا ہوں، تو یہاں مانگا بھی جا رہا ہے تب بھی نہیں دے رہا اس لئے کہ خود انہوں نے اس صفت کو محد و دکر دیا ہے۔جو آیا ہوا ہے اس کو مانے کو تیار نہیں ، یہ تصور ہی نہیں کہ کوئی نبی یا مصلح آ سکتا ہے اور یہ لوگ پھر اس کا نتیجہ بھی بھگت رہے ہیں، بے امنی اور بے سکونی کی کیفیت خاص طور پر مسلمان ملکوں میں ہر جگہ طاری ہے، تو ان حالات میں ایک احمدی ہی ہے جسے اپنے اللہ کی ربوبیت کا صحیح فہم و ادراک ہے اور ہونا چاہئے۔kh5-030425