خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 590 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 590

خطبات مسرور جلد چهارم 590 خطبہ جمعہ 24 نومبر 2006ء العلمين (المؤمن : 65 ) یعنی اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور آسمان کو تمہاری بقا کا موجب بنایا اور اس نے تمہیں صورت بخشی اور تمہاری صورتوں کو بہت اچھا بنایا اور تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق عطا کیا یہ ہے اللہ تمہارا رب۔پس ایک وہی اللہ برکت والا ثابت ہوا جو تمام جہانوں کا رب ہے۔پس کسی کے بہکاوے میں آنے کی بجائے اس خدا سے تعلق جوڑو جس نے تمہاری پیدائش سے پہلے ہی تمہاری بقا کے سامان پیدا فرمائے۔زمین و آسمان کی بے شمار مخلوق تمہاری خدمت کے لئے لگائی تمہیں خوبصورت شکل عطا کی تمہیں رزق بخشا۔یہ سب چیزیں، یہ سب باتیں تمہیں اس طرف توجہ دلاتی رہیں کہ تمہارا ایک رب ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کے آگے جھکے رہو گے تو انعامات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔شکر گزار بندے بنو گے تو اور اضافہ ہوگا، اور ملے گا، تمہاری جسمانی اور روحانی ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی۔پھر فرمایا هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّاهُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ (المومن : 66 ) وہی زندہ ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اُسے پکارو۔کامل تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔تو یہ ساری آیتیں لگا تار اسی طرف توجہ دلا رہی ہیں، ایک ہی سورۃ کی آیتیں ہیں اور ترتیب وار ہیں۔پھر دوبارہ اسی پر زور دے رہا ہے، فرماتا ہے کہ ان جسمانی اور روحانی نعمتوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھو اور ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے خالص ہو کر اللہ کی عبادت کرو کیونکہ وہی زندہ خدا ہے، باقی ہر چیز کو فنا ہے۔پس دنیا کی فانی چیزوں کے پیچھے نہ دوڑو بلکہ اس زندہ خدا سے تعلق جوڑ و وکل کا ئنات کا رب ہے کیونکہ اسی میں تمہاری روحانی اور جسمانی بقا ہے۔پس اللہ تعالیٰ بار بار ہمیں جن مختلف انعاموں اور احسانوں کا ذکر فرما کر اس طرف توجہ دلا رہا ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اسے ہی رب العالمین سمجھیں تو یہ سب ہماری بہتری کے لئے ہے اسے پتہ ہے کہ انسان جلد شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے اس لئے بچتا ر ہے۔پس یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ہمارا رب جو بہت پیار کرنے والا رب ہے، ہمیں ہمارے بہتر انجام کے راستے دکھا رہا ہے کہ یہ راستے ہیں جن پر چل کر ہم اپنا انجام بہتر کر سکتے ہیں ورنہ شیطان تو راستے پہ کھڑا ہے۔اللہ تعالیٰ کو جو ہمارا رب ہے اس کو تو ہماری کسی بات کی ضرورت نہ ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے نیک کاموں پر خوش تو ضرور ہوتا ہے لیکن اس لئے نہیں کہ اس کو ضرورت ہے کہ بندے اس کی تعریف کریں یا اس کی عبادت کریں۔اس کی خوشی اس لئے ہے کہ اس کے بندے نیک رستے پر چلنے والے ہیں، جہنم کے عذاب سے بچنے والے ہیں۔اپنے kh5-030425