خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 589 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 589

خطبات مسرور جلد چهارم 589 خطبہ جمعہ 24 نومبر 2006 ء تھا۔اس لئے ہمیشہ یاد رکھو کہ کسی اور کے حضور نہیں جھکنا بلکہ ذہن میں ہمیشہ یہ رہنا چاہئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہیں جو ہمارا رب ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمیشہ مجھے پکارو میں دعا ئیں سننے والا ہوں ، اپنی ضروریات میرے حضور پیش کرو میں ان کو پوری کروں گا۔پس اگر میری عبادت نہیں کرو گے تو صفت ربوبیت کی وجہ سے جو دنیاوی ضرورتیں اللہ تعالیٰ پوری کر رہا ہے وہ کرتا رہے گا لیکن پھر قیامت والے دن ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔اس لئے فرمایا ہمیشہ عبادت کی طرف توجہ دو۔پھر فرماتا ہے اللهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا إِنَّ اللَّهَ لَدُوْ فَضْلِ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُوْنَ (المؤمن : 62 ) کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے رات کو بنایا تا کہ تم اس میں تسکین پاؤ اور دن کو دکھانے والا بنایا یقینا اللہ لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر انسان شکر نہیں کرتے۔پچھلی آیت سے آگے یہ آیت ہے۔اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں شکر گزاری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اپنی صفت ربوبیت کے تحت ہماری تسکین کے لئے کتنے سامان ہمارے لئے مہیا فرمائے ہیں۔پس یہ سب کچھ تقاضا کرتا ہے کہ اس کا شکر گزار بندہ بنا جائے۔فرمایا دن اور رات بنا کر تمہارے کام اور آرام کے لئے آسانیاں پیدا کر دی ہیں ، وقت کی تعیین کر دی۔اگر کام اور آرام کے لئے تمہاری فطرت میں بعض باتیں رکھی تھیں تو وہ حالات بھی پیدا فرما دیئے ہیں جن سے تم زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکو، ان پر غور کرو اور شکر گزار بندوں میں سے بنو۔پھر فرمایا ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلّ شَيْءٍ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّى تُوْفَكُوْنَ (المؤمن : 63 ) يه ہے اللہ تمہارا رب ، ہر چیز کا خالق ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پس تم کہاں بہکائے جاتے ہو۔پھر دوبارہ وہی فرمایا کہ اتنے احسانات ہیں جن کو تم گن نہیں سکتے۔پس یا درکھو کہ شکر گزار بندے بنتے ہوئے ، اس کے آگے جھکتے ہوئے اسی کی عبادت کرنی ہے۔اس سے مانگنے کے لئے کسی اور رب کی تلاش نہ کرو۔شیطان کے بہکاوے میں آکر اپنے رب کے حکموں کی نافرمانی نہ کرو۔ہمیشہ یا درکھو کہ وہی ایک معبود ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ورنہ تم اگر کسی اور کو معبود سمجھ رہے ہوتو پھر بھٹکتے پھرو گے۔پھر فرمایا كَذلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِيْنَ كَانُوْا بِايْتِ اللَّهِ يَجْحَدُوْنَ (المؤمن : 64 ) اسی طرح وہ لوگ بہکائے جاتے ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَتِ ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ فَتَرَكَ اللهُ رَبُّ kh5-030425