خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 584

خطبات مسرور جلد چهارم 584 خطبہ جمعہ 24 /نومبر 2006 ء سائنس دانوں کے علم میں آئی ہے یا نہیں آئی ، یہ سب فائدہ اٹھا رہی ہے۔اگر انسان اپنے پر ہی نظر ڈالے تو روز مرہ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات نظر آتے ہیں۔کئی واقعات ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان ایسے تجربات سے گزرتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور احسان کی وجہ سے اس واقعہ کے بدنتائج سے محفوظ رہتا ہے۔کئی لوگوں کے ساتھ حادثات ہوتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ ایسا حادثہ ہوا ہے اور کار کا اس طرح حال ہوا تھا کہ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ اس حالت میں اندر بیٹھی ہوئی سواریاں بیچ کس طرح گئیں ؟ خراش تک نہیں آئی اور صحیح سالم باہر آ گئیں۔تو ہر ایک کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے ہیں۔میرے ساتھ بھی غانا میں کئی ایسے واقعات ہوئے جن کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی صفت رب پر یقین بڑھتا ہے، بعض دفعہ وہاں کے حالات ایسے خراب ہوتے تھے کہ بہت ساری ضرورت کی چیزیں مہیا نہیں ہو سکتی تھیں لیکن حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ہمارا اور بچوں کا سامان کرتا رہا، پرورش فرما تا رہا، بہت سارے مواقع پر خطر ناک حالات سے محفوظ رکھا۔اس کے علاوہ بھی زندگی میں کئی مواقع آتے ہیں اور یہ ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے۔اگر ہر ایک اپنے پر نظر ڈالے تو اللہ تعالیٰ کی صفت رب ہی ہے جو بہت ساری باتوں سے اسے محفوظ رکھتی ہے، بچاتی ہے، اسکی پرورش کرتی ہے اور جس کے احسانوں کے نیچے انسان دبا ہوا ہے۔رب العالمین صرف مشکل سے ہی نہیں نکال رہا بلکہ احسان یہ ہے کہ اسکے ساتھ انعامات کی بارش بھی ہورہی ہے۔صرف تکلیف دور کرنے کا احسان نہیں ہے بلکہ انعامات سے نوازنے کا احسان بھی ہے۔اگر دل مردہ نہ ہو جائیں اور احساس مر نہ جائیں تو انسان اللہ تعالیٰ کے احسانوں اور بوبیت کا کبھی شمار نہیں کر سکتا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں توجہ دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کے ساتھ یہ علی نقطہ پر پہنچا ہوا احسان کا جو سلوک ہے، یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے اور ایک مومن بندے کی اس طرف توجہ ہونی چاہئے کہ وہ اس ذات کی طرف کھنچے اور متوجہ ہو جس کے انعاموں اور احسانوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کی وجہ سے اس کے ایسے عبادت گزار بنیں اور اس کی ایسی عبادت کریں جو روح کے جوش سے ہو رہی ہو ایسی عبادت ہو جس میں ایک کشش ہو ، صرف خانہ پری والی عبادت نہ ہو۔پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے شکرانے کا اظہار جو ایک مومن بندے کی طرف سے ہونا چاہئے۔اس مضمون کے مختلف پہلو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کہاں کہاں اور کس طرح کام کرتی ہے۔بیشمار جگہ پر اس کا ذکر ہے۔احادیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے بندے کو نوازتا ہے۔پھر اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی مختلف زاویوں سے ہمیں کھول کر بتایا ہے کہ اس صفت کے تحت اللہ تعالیٰ کتنے احسانات kh5-030425