خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 583 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 583

خطبہ جمعہ 24 /نومبر 2006 ء 583 (47) خطبات مسرور جلد چهارم مسلمانوں نے زمانے کے امام کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کو محدود کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کی صفت رب العالمین کے مختلف معانی کا پر معارف تذکرہ فرمودہ مورخہ 24 نومبر 2006ء (24 رنبوت 1385 ھش ) مسجد بیت الفتوح، لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ خطبے میں میں نے اللہ تعالیٰ کی صفت رب کے لغوی معنی بیان کرتے ہوئے کچھ وضاحت کی تھی اور آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھا تھا، اسی مضمون کو آج بھی جاری رکھوں گا۔اس اقتباس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رب العالمین کی صفت کی جو وضاحت فرمائی تھی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس میں تمام صفات جمع ہیں، وہ بھی جن کا ہمیں علم ہے اور وہ بھی جن کا ہمیں علم نہیں اور یہ تمام صفات انتہائی نقطہ کمال تک پہنچی ہوئی ہیں۔وہ ہر نقص سے پاک ہے اور حسن و احسان کے اعلیٰ نقطے پر پہنچا ہوا ہے جو اس کی صفات سے ظاہر ہوتا ہے۔یہ حسن اور احسان خوبصورتی کے اُس اعلیٰ نقطہ تک پہنچا ہوا ہے کہ جس کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا۔رب العالمین کے بندے پر جو انعامات اور فضل ہیں یہ خالصہ اللہ تعالیٰ کی دین ہیں نہ کہ بندے کا کمال، یہ ایک ایسا احسان ہے جس کا مقابلہ تو کیا احاطہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔آپ فرماتے ہیں کہ احسان کی یہ صفت رب العالمین کے اظہار سے ظاہر فرمائی ہے اور اس صفت ربوبیت سے اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق جو اس کا ئنات میں موجود ہے، جسے ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے ، جو kh5-030425