خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 576
خطبات مسرور جلد چهارم 576 خطبہ جمعہ 17 نومبر 2006 ء پھر اقرب جو لغت کی ایک کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ رب کے معنی مالک کے بھی ہوتے ہیں، سردار اور مطاع کے بھی ہوتے ہیں اور رب کے معنی مصلح کے بھی ہوتے ہیں۔بحرمحیط میں ہے کہ رب کے معنے خالق کے بھی ہیں۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ رب کا لفظ بغیر اضافت کے صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے اور اضافت کے ساتھ اللہ اور غیر اللہ دونوں کے ساتھ آتا ہے۔مثلَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ابَائِكُمُ الْاوَّلِين (الشعراء: 27) یہاں رب کے لفظ کے ساتھ جو کم کا لفظ لگایا گیا ہے یا آبَاءِ كُمْ کا لفظ لگایا گیا ہے یعنی تمہارا رب یا تمہارے باپ دادا کا رب، یہ اضافت ہے، زائد چیز آگے بیان کی گئی ہے۔پس جب اللہ کے علاوہ رب کا لفظ کسی کے ساتھ لگتا ہے تو جیسا کہ بتایا اس میں صرف اضافت کے ساتھ لگ سکتا ہے۔مثلاً رَبُّ الدَّار گھر کا مالک یا رَبُّ الْفَرَس گھوڑے کا مالک۔خالی رب کا لفظ جہاں بھی استعمال ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے استعمال ہوگا۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ لسان العرب اور تاج العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتابیں ہیں لکھا ہے کہ زبان عرب میں رب کا لفظ سات معنوں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں۔مَالِكَ، سَيِّد، مُدَبّر ، مُرَبّى، قيم، مُنْعِم ، مُتَمِّم۔چنانچہ ان سات معنوں میں سے تین معنے خدا تعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔منجملہ ان کے مالک ہے اور ما لک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہ ہو یعنی وہ مالک ہے کہ جو اس کے ماتحت ہے، جو اس کی ملکیت میں ہے اس پر اس کا مکمل قبضہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہو۔ایسا قبضہ ہو کہ جس طرح بھی چاہے اس کو استعمال میں لاسکتا ہے۔اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پاسکتا کیونکہ قبضہ تامہ اور تصرف تام اور حقوق تامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کے لئے مسلم نہیں۔" من الرحمن۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 152-153 ، حاشیہ) یعنی مکمل قبضہ بھی ہو، مکمل طور پر اس پر اختیار بھی ہو ، جس طرح چاہے استعمال کرے اور مکمل طور پر اس پر حق بھی رکھتا ہو۔تو فرمایا کہ یہ چیز سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے کسی کے لئے نہیں۔مالک کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے الفاظ میں فرمائی ہے۔رب کے معنوں میں جو باقی الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کو بھی میں یہاں مختصراً بیان کر دیتا ہوں تا کہ اس لفظ کی وسعت کا مزید علم ہو سکے۔ایک لفظ اکسید استعمال ہوا ہے۔سید کا لفظ عزت اور شرف کے معنوں میں بطور لقب کے استعمال ہوتا ہے اور ہر نوع میں سے اعلیٰ اور افضل شئی کو سید کہا جاتا ہے مثلاً القُرْآنُ سَيِّدُ الكَلام یعنی قرآن سب کلاموں کا سردار ہے۔پس سید کا مطلب یہ ہے کہ سب سے اعلیٰ اور افضل اور معزز جس کی اطاعت لازم ہو۔kh5-030425