خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 572 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 572

572 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم احمدی کہلاتے ہیں۔ماں بیچاری چیخ رہی ہے چلا رہی ہے۔ماں پر غلط الزام لگا کر اس کو بچوں سے محروم کر دیتے ہیں۔حالانکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ قرآن کہتا ہے کہ فائدہ اٹھانے کے لئے غلط الزام نہ لگاؤ۔اور پھر اس مرد کے، ایسے باپ کے سب رشتہ دار اس کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ایسے مرد اور ساتھ دینے والے ایسے جتنے رشتہ دار ہیں ان کے متعلق تو جماعتی نظام کو چاہیے کہ فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے ان کے خلاف تعزیری کا رروائی کی سفارش کرے۔یہ دیکھیں کہ قرآنی تعلیم کیا ہے اور ایسے لوگوں کے کرتوت کیا ہیں۔؟ افسوس اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ بعض عہدیدار بھی ایسے مردوں کی مدد کر رہے ہوتے ہیں اور کہیں سے بھی تقویٰ سے کام نہیں لیا جا رہا ہوتا۔تو یہ الزام تراشیاں اور بچوں کے بیان اور بچوں کے سامنے ماں کے متعلق باتیں، جو انتہائی نامناسب ہوتی ہیں، بچوں کے اخلاق بھی تباہ کر رہی ہوتی ہیں۔ایسے مرد اپنی اناؤں کی خاطر بچوں کو آگ میں دھکیل رہے ہوتے ہیں اور بعض مردوں کی دینی غیرت بھی اس طرح مرجاتی ہے کہ ان غلط حرکتوں کی وجہ سے اگر ان کے خلاف کا رروائی ہوتی ہے اور اخراج از نظام جماعت ہو گیا تو تب بھی ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ، اپنی انا کی خاطر دین چھوڑ بیٹھتے ہیں۔وقف نو کے حوالے سے یہاں ضمنا میں یہ بھی ذکر کر دوں کہ اگر ان کا بچہ واقف نو ہوتو والدین کے اخراج کی صورت میں اس کا بھی وقف ختم ہو جاتا ہے۔اس لئے جماعتیں ایسی صورت میں جہاں جہاں بھی ایسا ہے خود جائزہ لیا کریں۔پاکستان میں تو وکالت وقف نو اس بات کا ریکارڈ رکھتی ہے لیکن باقی ملکوں میں بھی امیر جماعت اور سیکر ٹریان وقف نو کا کام ہے کہ اس چیز کا خیال رکھیں۔اور پھر معافی کی صورت میں ہر بچے کا انفرادی معاملہ خلیفہ وقت کے سامنے علیحدہ پیش ہوتا ہے کہ آیا اس کا دوبارہ وقف بحال کرنا ہے کہ نہیں ؟ اس لئے ریکارڈ رکھنا بھی ضروری ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اصل کام ظلم کوختم کرنا ہے اور انصاف قائم کرنا ہے اور خلافت کے فرائض میں سے انصاف کرنا اور انصاف کو قائم کرنا ایک بہت بڑا فرض ہے۔اس لئے جماعتی عہدیدار بھی اس ذمہ داری کو سمجھیں کہ وہ جس نظام جماعت کے لئے کام کر رہے ہیں وہ خلیفہ وقت کی نمائندگی میں کام کر رہا ہے۔اس لئے انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا ان کا اولین فرض ہے۔یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر ہر ایک کو یہ ذمہ داری نبھانی چاہئے۔فیصلے کرتے وقت، خلیفہ وقت کو سفارش کرتے وقت ہر قسم کے تعلق سے بالا ہو کر سفارش کیا کریں۔اگر کسی کی حرکت پر فوری غصہ آئے تو پھر دو دن ٹھہر کر سفارش کرنی چاہئے تا کہ کسی بھی قسم کی جانبدارانہ رائے نہ ہو۔اور فریقین بھی یا درکھیں کہ بعض اوقات اپنے حق لینے کے لئے غلط بیانی سے کام لیتے ہیں یا یہ کہنا چاہئے کہ نا جائز حق مانگتے ہیں۔( تو انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے ) پس جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ نکاح کے وقت کی قرآنی نصائح کو پیش نظر رکھیں ، تقوی۔kh5-030425