خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 564
564 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم رہو، نصیحت یقیناً فائدہ دیتی ہے تو انسان مایوس ہو کر بیٹھ جائے کہ ان بگڑے ہوؤں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، یہ سب حدیں پھلانگ چکے ہیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیح و مہدی کی غلامی اور نمائندگی میں نصیحت کرنے کے فرمان الہی کے مطابق نصیحت کرتے چلے جانے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے کہ جن لوگوں نے اس زمانے کے امام کو مانا ہے یقینا ان میں شرافت کا کوئی بیج تھا جس سے یہ نیکی کا شگوفہ پھوٹا ہے کہ احمدیت قبول کر لی اور اس پر قائم ہیں۔پس اللہ کے حکم کے مطابق اور جو کام ذمہ لگایا گیا ہے اس کو ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہ نصیحت کرو یقیناً اللہ برکت ڈالے گا، میں اللہ تعالیٰ کے اس برکت ڈالنے کے سلوک کی امید کرتے ہوئے آج پھر اس بارے میں کچھ سمجھانے کی کوشش کروں گا۔اللہ تعالیٰ میرے الفاظ میں اثر پیدا کر دے کہ اجڑتے ہوئے گھر جنت کا گہوارہ بن جائیں گو کہ میں گزشتہ خطبات میں اشارہ بھی اس طرف توجہ دلاتا رہا ہوں لیکن آج ذرا کچھ وضاحت سے یہ فرض ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔جیسا کہ میں نے کہا آجکل بذریعہ خطوط یا بعض ملنے والوں سے سن کر طبیعت بے چین ہو جاتی ہے کہ ہمارے مقاصد کتنے عظیم ہیں اور ہم ذاتی اناؤں کو مسائل کا پہاڑ سمجھ کر کن چھوٹے چھوٹے لغو مسائل میں الجھ کر اپنے گھر کی چھوٹی سی جنت کو جہنم بنا کر جماعتی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے منفی کردارادا کر رہے ہیں۔ان مسائل کو کھڑا کرنے میں جو بھی فریق اپنی اناؤں کے جال میں اپنے آپ کو بھی اور دوسرے فریق کو بھی اور نظام جماعت کو بھی اور پھر آخر کار بعض اوقات مجھے بھی الجھانے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے عقل دے اور وہ اس مقصد کو سمجھے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا۔آپ فرماتے ہیں کہ وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دور کر کے محبت اور اخلاص کو دوبارہ قائم کروں۔“ پھر آپ فرماتے ہیں ” خدا نے مجھے دنیا میں اس لئے بھیجا کہ تا میں حلم اور خلق اور نرمی سے گم گشتہ لوگوں کو خدا اور اس کی پاک ہدایتوں کی طرف کھینچوں اور وہ نور جو مجھے دیا گیا ہے اس کی روشنی سے لوگوں کو راہ راست پر چلاؤں۔انسان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے دلائل اس کو ملیں جن کے رو سے اس کو یقین آجائے کہ خدا ہے“۔پس یہ بڑا مقصد ہے جس کے پورا کرنے کی ایک احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور اس کو جستجو رہنی چاہئے۔اور کوئی احمدی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مقصد کے حصول کے لئے آپ کی مدد نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ اپنی اناؤں سے چھٹکارا حاصل نہیں کرتا ان پاک ہدایتوں پر عمل نہیں کرتا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دی ہیں۔اگر ہمارے اپنے گھروں میں نرمی اور اعلیٰ اخلاق کے نظارے نظر نہیں آرہے تو ہم نے گم گشتہ اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستہ کیا دکھانا ہے؟ ہم تو خودان گم گشتہ kh5-030425