خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 558 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 558

خطبات مسرور جلد چهارم 558 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006 ء دی۔اللہ تعالیٰ ان سب کے ایمان اور اخلاص میں برکت ڈالے، آمدنیوں میں برکت ڈالے۔تو انگلستان امریکہ کا نصف ہے، 45 پاؤنڈ فی کس، جبکہ ڈالر اور پاؤنڈ کی جو آپس کی نسبت ہے وہ بھی نصف ہے، 2 ڈالر ہوں تو ایک پاؤنڈ بنتا ہے۔کینیڈا 26 پاؤنڈ ، ان میں بھی گنجائش ہے۔ان کا بھی کہنا ہے کہ مسجد میں بنا رہے ہیں، جلسہ گاہ بھی خریدی لیکن گنجائش وہاں موجود ہے۔جرمنی 18 پاؤنڈ، ان میں بھی کافی گنجائش ہے۔تو ایک یہ ہے۔پاکستان سے جو رپورٹ آئی ہے، وہ با قاعدہ دفتر اول دوم سوم کے لحاظ سے تفصیلی رپورٹ آتی ہے۔ایک تو باہر کی جماعتوں کو بھی اپنی رپورٹس ان دفاتر کے حساب سے بھجوانی چاہئیں جن کا نام آپ کی قواعد کی کتاب میں Phase یا Stage رکھا ہوا ہے۔پہلے سال آسانی کے لئے میں جماعتوں کو کہتا ہوں کہ دفتر پنجم جو میرے دور میں شروع ہوا، جس کا میں نے اعلان کیا تھا، اس سے شروع کریں کہ اس میں گزشتہ تین سال میں کتنے لوگ شامل ہوئے اور آئندہ جو شامل ہوں گے ان کا اندراج ہوتا کہ پتہ لگے کہ اس دفتر میں کتنی تعداد ہے۔اس کو مکمل کر کے پھر دوسرے دفاتر میں دیکھتے جائیں کہ کتنی کتنی تعداد ہے۔یہ ریکارڈ درست ہونا چاہئے۔تحریک جدید کے شروع میں جو بزرگ جماعت کی خدمت کرتے رہے ،میں نے ان کے ناموں کو دیکھا تو دعا کی غرض سے اور اس لئے کہ ان کی اولادوں کو ذرا احساس ہو اور ان میں سے اگر کوئی خدمت نہیں کر رہا تو ان میں احساس پیدا ہو اور وہ بھی آئندہ آگے بڑھیں۔تو اس تحریک کے بعد 1935ء میں شروع کا جو پہلا دستہ گیا تھا اس میں مولوی غلام حسین صاحب ایاز سنگا پور گئے، صوفی عبدالغفور صاحب چین گئے۔صوفی عبدالقدیر نیاز صاحب جاپان گئے، چوہدری محمد اسحاق صاحب سیالکوٹی ہانگ کانگ گئے ، حافظ مولوی عبدالغفور صاحب جالندھری جاپان، حاجی احمد خان صاحب ایاز ہنگری و پولینڈ ، محمد ابراہیم صاحب ناصر ہنگری، ملک محمد شریف صاحب گجراتی سپین واٹلی ، مولوی رمضان علی صاحب ارجنٹائن ، مولوی محمد دین صاحب البانیہ۔حضرت مصلح موعودؓ نے مشورہ کر کے اور بالکل معمولی رقم دے کر جب ان کو بھیجا تھا تو اس وقت حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ میں نے مبلغین کی جو سلیکشن کی ہے تو صرف یہ دیکھا تھا کہ جرات سے کام کرنے والے ہیں، لیاقت کا زیادہ خیال نہیں رکھا تھا۔پھر دوسرا گروپ گیا جس میں ملک عطاء الرحمان صاحب فرانس، چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ انگلستان ، حافظ قدرت اللہ صاحب ہالینڈ ، چوہدری اللہ دتہ صاحب فرانس، چوہدری کرم الہی صاحب ظفر سین، چوہدری محمد اسحاق صاحب سپین، مولوی محمد عثمان صاحب اٹلی ، اسی طرح ابراہیم خلیل صاحب اٹلی ، غلام احمد صاحب بشیر ہالینڈ ( شامل تھے )۔kh5-030425