خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 49

49 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم عورتیں، قادیان کے مقامی یا ہندوستان کے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے یا باہر کے ملکوں سے آئے ہوئے مہمان جو بھی احمدی تھے اور احمدیت جن کے دلوں میں بیٹھ چکی ہے ہر ایک کے چہرے سے لگتا تھا کہ ان دنوں میں کسی اور دنیا کی مخلوق بنے ہوئے ہیں۔کسی اور دنیا کے رہنے والوں کے چہرے ہیں۔جلسے پر بعض دوسرے جزیروں سے ، ساتھ کے چھوٹے جزیروں سے لمبا سفر کرتے ہوئے غریب لوگ پہنچے تھے۔بعضوں کا چھ سات دن کا سفر تھا۔ایک دن سمندر میں سفر کیا پھر انتظار کیا پھر کئی دن ٹرین پر سفر کیا اور پھر قادیان پہنچے۔قادیان میں سردی بھی زیادہ ہوتی ہے جبکہ یہ گرم علاقوں کے لوگ تھے۔ان کو سردی کی عادت نہیں تھی۔لیکن ایمان کی گرمی کی شدت نے اس کا شاید اُن کو احساس نہیں ہونے دیا۔انتہائی صبر سے انہوں نے یہ دن گزارے ہیں۔یہ نظارے صرف وہیں نظر آ سکتے ہیں جہاں خدا کی خاطر یہ سب کچھ ہو۔دنیا دار تو اس قربانی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔بعض دُور دراز سے آئے ہوئے غریب لوگوں سے آنے کے بارے میں جو پوچھو تو یہی جواب دیتے تھے کہ آپ کی موجودگی میں کیونکہ جلسہ ہو رہا تھا اس لئے ہم آ گئے ہیں۔مختلف قومیتوں کے ، علاقوں کے لوگ قبیلوں کے لوگ آئے ہوئے تھے۔مالی لحاظ سے اکثریت غریب ہے۔ہندوستان بہت بڑا وسیع ملک ہے اور موسموں کا بھی بڑا فرق ہے، کہیں گرم علاقے ہیں کہیں بہت ٹھنڈے علاقے ہیں۔جو گرم علاقے والے ہیں ان کو گرم کپڑوں کا تصور بھی نہیں ہے نہ ان کے پاس ہوتے ہیں۔لیکن مسیح محمدی کے یہ متوالے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی دعاؤں سے جھولیاں بھرنے کے لئے کھنچے چلے آئے۔ایم ٹی اے پر بھی آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا، رپورٹس بھی پڑھی ہوں گی۔آنے والوں سے سنا بھی ہوگا۔لیکن وہاں جو کیفیت تھی وہ دیکھنے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں۔بلکہ ملاقات کے وقت بعضوں کا جو حال ہوتا تھا وہ صرف میں ہی محسوس کر سکتا ہوں۔پس اخلاص و وفا اور نیکی میں بڑھنے کی یہ کیفیت اگر جماعت کے افراد اپنے اندر قائم رکھے رہے اور رکھیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ جماعت بھی ترقی کرتی جائے گی اور جماعت کے لوگ بھی کامیاب ہوتے چلے جائیں گے۔قادیان کے جلسے پر پاکستان سے آنے والوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔گو کہ زیادہ نہیں آ سکے لیکن 5 ہزار سے زائد وہاں سے بھی آئے تھے۔ان لوگوں کے احساس محرومی اور جدائی کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔بعض نہ آنے والوں نے خطوں میں بھی اور بعض جن کو شعر و شاعری سے لگاؤ ہے انہوں نے شعروں میں اپنی بے بسی کا اظہار کیا جنہیں پڑھ کر دل کی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔گو کہ آنے والوں سے وقت کی کمی وجہ سے صرف مصافحے ہوئے یا ایک آدھ لفظ کسی نے بات کہہ دی لیکن یہ چند سیکنڈ بھی جو ان لوگوں سے ملاقات کے ملے تھے وہ برسوں کی کہانی سنا جاتے تھے۔kh5-030425