خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 551
خطبات مسرور جلد چهارم 551 خطبہ جمعہ 03 نومبر 2006 ء چیریٹی کے لئے بھی کچھ رقم مختص کر دیتے ہیں تاکہ حکومت کے ٹیکسوں سے چھوٹ مل جائے۔تو یہ سب قربانیاں جو کی جا رہی ہوتی ہیں یا ان کے خیال میں جو قربانیاں کی جا رہی ہوتی ہیں یہ عارضی اور سطحی اور اکثر اوقات دنیا دکھاوے کے لئے بھی ہوتی ہیں۔لیکن ایک احمدی کی جو قربانی ہے اور جو ہونی چاہئے اس کا مقصد جیسا کہ میں نے کہا، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنا ہے اور اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ یہ کرو۔اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کی یہ ذمہ داری قرار دی ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی خدمت کرے اور اگر مالی قربانی کر رہا ہے تو وہ بھی جائز ذرائع سے کمائی ہوئی آمد سے کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَانْفُسِكُمْ یعنی جو کچھ بھی تم اپنے اچھے مال میں سے خرچ کرتے ہو وہ تمہیں فائدہ دے گا، وہ تمہارے فائدہ کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ نے خیر کا لفظ استعمال کر کے ہمیں یہ توجہ دلا دی ہے کہ تم جو مالی قربانیاں کرو، ایک تو یہ کہ محنت سے اور جائز ذرائع سے کمائے ہوئے مال میں سے کرو، یہ نہیں کہ شراب کی دکانوں پر کام کر کے یا سؤر بیچنے والی دکانوں پر کام کر کے یا پھر کوئی ایسا کام کر کے جو غیر قانونی ہو، پیسہ کما کر اس پر چندہ دے دو یا جس طرح نا جائز منافع خور کرتے ہیں کہ نا جائز پیسہ کما کر تھوڑی سی رقم غریبوں پر خرچ کر دی یا حج کر لیا اور سمجھ لیا کہ پیسہ پاک ہو گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے ایسا پیسہ نہیں چاہئے۔اللہ کی راہ میں جو تم خرچ کرو اس میں خیر ہونی چاہئے۔وہ جائز ہونا چاہئے اور پھر تم جو یہ جائزہ پیسہ کما رہے ہو اس پر چندہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق ہی دو، یہ نہیں کہ آمد تو لاکھ روپے ہے اور چندہ دس روپے دیے دیا اور سمجھ لیا کہ میں نے قربانی کا حق ادا کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے رقم کی ضرورت نہیں ہے، میں غنی ہوں۔اس قربانی کے ذریعے سے میں تمہیں آزمارہا ہوں کیونکہ یہ سب تمہارے ہی فائدے کے لئے ہے۔پس یہ جو فر مایا فَلا نَفُسِكُم - قربانی کرتے ہوئے یہ فقرہ تمہارے ذہن میں رہنا چاہئے اور جب یہ سوچ ہوگی تو اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھو کہ تم اس حکم پر چل رہے ہو کہ وَمَا تُنْفِقُوْنَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ الله کہ تم اللہ کی رضا جوئی کے سوا کچھ خرچ نہیں کرتے اور جو اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتا ہے اس کے بارے میں فرمایا تُوَفَّ إِلَيْكُم وہ بھر پور طریقے سے تمہیں لوٹایا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ادھار نہیں رکھتا، تمہاری بھلائی کے لئے تم سے قرض مانگتا ہے تو سات سو گنا کر کے تمہیں واپس لوٹاتا ہے۔لیکن یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپایا نہیں جا سکتا، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔پاک مال ہوگا، اس کی رضا کے حاصل کرنے کے لئے ہو گا تو بڑھا کر لوٹایا جائے گا۔ناجائز مال اور دھو کے سے یا غلط طریقے سے کمائے ہوئے مال کی اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں ، وہ اس کو قبول نہیں کرے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا احمدیوں پر بڑا احسان ہے کہ ہر احمدی مالی قربانی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے اور اس کا نیک ذرائع سے ہی کمایا ہوا مال ہوتا ہے۔بعض دفعہ بعض لوگ غلط فہمی kh5-030425