خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 48

خطبات مسرور جلد چهارم 48 خطبہ جمعہ 20 /جنوری 2006ء بہر حال شہر کا حال بھی سن لیں کچھ مختصر ابتا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 1991ء کے بعد سے جب سے حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے دورہ فرمایا تھا قادیان میں عمارتوں کے لحاظ سے کافی ترقی ہوئی ہے، کچھ پرائیویٹ لوگوں نے بھی گھر بنائے وہاں کی آبادی نے بھی گھر بنائے ، جماعت کی بھی عمارات بنیں۔شہر کافی پھیل گیا ہے۔لیکن اس کے باوجود وہاں کے رہنے والے احمدیوں کی اکثریت میں حالات کی بہتری کے باوجود ابھی تک سادگی پائی جاتی ہے اس لئے میں انہیں یہی زور دیتارہا ہوں کہ اس سادگی اور سکون کو جو ابھی تک اُن درویشوں کے اثر سے قائم ہے جنہوں نے شعائر اللہ کی حفاظت کی خاطر اپنے گھر بار، جائیدادیں رشتہ داریاں چھوڑی ہیں، ان کے بچے اسے یاد رکھیں اور اس کی جگالی کرتے رہیں۔اور پھر نئے آنے والے بھی جواب وہاں آ کر آباد ہو رہے ہیں اس بستی کے تقدس کو قائم رکھنے کی کوشش کریں۔کئی نومسلم نو مبائع ہیں بعض معلمین کلاس میں بھی داخل ہوئے ہیں، جامعہ میں بھی داخل ہوئے ہیں لیکن باوجود اس کے کہ دینی تعلیم وغیرہ بھی حاصل کر رہے ہیں ، جماعتی روایات کا ان کو پوری طرح علم نہیں ہے اور تعلیم کا بھی پوری طرح علم نہیں ہے۔تو اُن کو چاہئے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ جماعتی روایات اور قادیان کے تقدس سے پوری طرح واقف ہوں اور اس کو اپنے اندر جذب کریں یا اپنے آپ کو اس ماحول میں جذب کرنے کی کوشش کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بستی کا ہونا چاہئے۔بہر حال اکثریت جیسا کہ میں نے کہا تھا سادہ ہے، سادگی پر قائم ہے اور سکون اور امن قائم کرنے والے ہیں، اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بڑھاتا چلا جائے۔وہاں کی غیر مسلم آبادی نے بھی مہمان نوازی اور تعلق کا حق ادا کیا ہے۔جس گلی کوچے میں سے بھی گزرے احمدیوں کے ساتھ غیر مسلموں کے چہروں سے بھی پیارا اور تعلق کا بھی اظہار ہوتا تھا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔وہاں قیام کے دوران جلسے کے تین دن ہی نہیں جو تقریروں کے تین دن تھے۔یوں لگ رہا تھا کہ پورا مہینہ ہی جلسے کا سا سماں ہے۔اور ہر وقت رونق کسی نے جو یورپ سے خود جلسے قادیان پر گئے ہوئے تھے مجھے خط لکھا کہ گلیوں اور سڑکوں پہ جتنارش تھا اور جو نظارے تھے ایم ٹی اے کے کیمرے اس طرح وہ دکھا نہیں سکے۔ان کی بات ٹھیک ہے۔رش کا تو یہ حال تھا کہ گوسٹ کیں چھوٹی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ آبادی اتنی نہیں لگتی تھی جتنا وہاں سڑکوں میں پھنسی ہوئی نظر آتی تھی۔بعض دفعہ ٹریفک یا لوگوں کا چلنارک جاتا تھا۔گلیوں میں Jam-Pack تھا۔بعض لوگوں نے مجھے بتایا کہ بعض دفعہ اتنا رش تھا کہ سڑکوں پر چلتے چلتے ایک دم اگر کوئی روک آ جاتی تھی تو ملنے کی بھی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔تو بہر حال بچے، بوڑھے، مرد، kh5-030425