خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 511 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 511

خطبات مسرور جلد چهارم 511 خطبہ جمعہ 06 اکتوبر 2006 ء کی کوئی حد نہیں اس لئے انبیاء علہیم السلام ہمیشہ دعا میں لگے رہتے ہیں اور ہمیشہ زیادہ نور مانگتے رہتے ہیں۔وہ بھی اپنی روحانی ترقی پر سیر نہیں ہوتے اس لئے ہمیشہ دعا میں لگے رہتے ہیں کہ خدا ان کی ناقص حالت کو ڈھانچے اور پورا روشنی کا پیمانہ دے۔اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ اپنے نبی کوفرماتا ہے قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا یعنی ہمیشہ علم کے لئے دعا کرتارہ کیونکہ جیسا خدا بے حد ہے ایسا ہی اس کا علم بھی بے حد ہے۔القصہ جنت کا استغفار صاف طور پر ثابت کرتا ہے کہ استغفار اور گناہ لازم ملزوم نہیں ہیں اور یہ کہ ہمارا استغفار اس لئے بھی ہو سکتا ہے کہ خدا ہماری کمزوریوں کو ڈھانچے اور روحانی ترقی کے لئے طاقت دے۔عیسائی بڑے ظالم ٹھہریں گے اگر وہ اب بھی اصرار کریں گے کہ استغفار ہمیشہ گزشتہ گناہوں کی معافی کے لئے ایک دعا ہوتی ہے۔“ ریویو آف ریلیجنز جلد 2 صفحہ 243-244 تغییر حضرت مسیح موعود جلد نمبر 8 صفحہ 174 تا 175 تفسیر سورۃ تحریم) پھر سورۃ بقرہ کی آخری آیت ہے جس میں ہمیں مختلف دعا ئیں سکھائی گئی ہیں کہ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِيْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَابِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الكَافِرِين (البقرة : 287 ) کہ اے ہمارے رب ہمارا مؤاخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے کوئی خطا ہو جائے۔اور اے ہمارے رب ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر ان کے گناہوں کے نتیجہ میں تو نے ڈالا ہے۔اور اے ہمارے رب ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہو۔اور ہم سے در گزر کر اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر۔تو ہی ہمارا والی ہے ، پس ہمیں کا فرقوم کے مقابل پر نصرت عطا کر۔یعنی جیسا کہ ترجمے سے سب واضح ہو گیا کہ اے اللہ جو کام تو نے ہمیں کرنے کے لئے دیئے ہیں اگر ہم وہ کرنے بھول جائیں یا پوری طرح نہ کر سکیں تو ہماری کمزوری سمجھ کر معاف کر دینا اور اس بات پر ہمیں نہ پکڑنا۔یہ نہ ہو کہ ہمارے اس بھولنے سے ہماری ترقی رک جائے اور ترقی میں کمی آ جائے یا ہمارے میں سے چندلوگوں کی بھول چوک سے ہماری ترقی رک جائے یا کمی آ جائے۔یہ دعا واقفین زندگی کو ، عہد یداران کو جو جماعتی خدمات کر رہے ہوتے ہیں خاص طور پر کرنی چاہئے۔پھر یہ ہے کہ أوْ أَخْطَأنَا کہ یا اللہ ایسا بھی نہ ہو کہ ہماری کوئی خطا جو ہمارے کسی کام کے غلط طریق پر کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے اس کے بداثرات ظاہر ہوں۔تو ہمیشہ ہمیں ہماری خطاؤں کے بداثرات سے محفوظ رکھنا اور ہمارا مواخذہ نہ کرنا۔پھر اگلی دعا ہے کہ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرً ا یعنی اے اللہ ہمیں اُن اعمال سے محفوظ رکھ جو گناہ کی طرف لے جانے والے اعمال ہیں اور گناہ ہیں۔اور اسی طرح ہم کسی ایسے عہد کے نیچے بھی نہ آئیں kh5-030425